خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 595
خطبات طاہر جلدم 595 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء دکھاتے ہیں، اس طرح کی تاریخ ہم نے لکھی ہے جو زندہ بن کر پھر تمہارے سامنے فلموں کی طرح دہرائی جاتی ہے۔جو گزشتہ خطبہ میں میں نے واقعات بیان کئے تھے وہ بھی اسی قسم کے تھے۔حیرت سے انسان اس کتاب کامل کو دیکھتا ہے اور اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کی معجز بیانی پر روح وجد کرتی ہے اس کو فرقان کہتے ہیں۔کیا ہے کوئی دنیا میں مورخ ؟ جو ایسی تاریخ لکھنے کا دعویدار ہو جو سابقہ قوموں کی تاریخ لکھ رہا ہو اور بعینہ اسی طرح انہی نقوش کے ساتھ وہ قومیں زندہ ہو کر پھرنے لگیں اور صرف یہی نہیں بلکہ اعلان کیا گیا ہو، دعویٰ کیا گیا ہو کہ ہاں ایسا ہوگا۔تو جب یہ فرمایا اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ تو یہ مضمون کھل گیا۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر مورخ تاریخ لکھتا ہے اور ویسی شکلیں بن جایا کرتی ہیں تو قرآن نے بھی ایسی بات کی ہوگی۔قرآن تو کھول کر بتا رہا ہے کہ یہ مومن یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے یہ ایسے نشان روز اپنی زندگیوں میں دیکھ رہے ہیں۔تمہارے لئے تو ابراھیم ایک ماضی کا قصہ بن گیا ہے مگر آج مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں گھر گھر میں ابراہیم پیدا ہورہے ہیں اور ایک قسم کی آگ نہیں سینکڑوں قسم کی آگوں کو یہ بھڑکتا بھی دیکھتے ہیں اور اپنے لئے بجھتا ہوا بھی دیکھتے ہیں۔اور یہی واقعات آج احمدیت کی تاریخ میں رونما ہو رہے ہیں۔کیسے ہمارے ایمانوں کو ہمارے دلوں سے نوچیں گے؟ یہ تو ہر کوشش کے ساتھ ان ایمانوں کو نئی تازگی بخش دیتے ہیں۔ہر دفعہ جب چاہتے ہیں کہ یہ ایمان کے نقوش مٹ جائیں تو نئی شان کے ساتھ جاگر ہو کر نئے جلوؤں کے ساتھ چپکنے لگتے ہیں۔پھر قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ اب قوم دلائل میں عاجز آگئی یعنی مخالفین دلائل میں عاجز آگئے اور کوئی حربہ اب ان کے پاس باقی نہیں رہا سوائے جبر اور تشد داور نمرودیت اور فرعونیت کے۔اس وقت پھر کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جو تاریخ بیان فرمارہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر یہ مذہبی تحریک ایک سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے لگتی ہے اور اس وقت بیچ میں حکومتوں کا دخل آنا شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ لوگ جو عامتہ الناس کے طور پر یا مذہبی رہنماؤں کے طور پر ایک سچائی کی بیخ کنی میں نا کام ہو جاتے ہیں پھر یہ اسے سیاسی رنگ دیتے ہیں اور سیاست کی راہ سے حکومتوں پر قابض ہوتے ہیں اور حکومتوں پر اثر انداز ہوتے