خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۴ 592 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء والا آج جماعت احمدیہ کو یہ کہہ رہے ہیں کہ قرآن کریم کی اچھی باتوں پر تم کیوں عمل کر رہے ہو۔ بری باتوں پر عمل کرنے کے لئے ہم جو رہ گئے ہیں۔ Heads I win tails you lose ا قصہ ہے۔ قرآن کریم کا تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیں گے۔ ہم اس لئے عمل نہیں کر سکتے کہ ؟ تم ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ جو پہلے نازل ہوا ہے ہم اس کی پیروی کرسکیں اور تم اس لئے عمل نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم فرماتا ہے اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ تم میں سے اکثر فاسق ہو چکے ہیں اور تمہاری سوسائٹی تمہارے روزانہ کے اخبار، ہر صفحہ ہر اخبار کا سوسائٹی کی ایسی بھیانک تصویر کھینچ رہا ہے جو اپنے بھیانک پن میں زیادہ بھیانک ہوتی چلی جارہی ہے ، اور بھی آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ قرآن کریم نے اتنے تفصیل سے ان ان واقعات کو نہ ت کو نہ صرف محفوظ فرمایا بلکہ دلائل ہر قسم کے اکٹھے کر دیئے۔ اور یہ مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت ہی وسیع مضمون ہے ابھی جو آیت میں نے بیان کی ہے اس کی بھی تفصیلات کا اطلاق میں نے ابھی نہیں کر کے دکھایا۔ مگر بہر حال ہمیں وقت کی رعایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ مختصر کرنا پڑ رہا ہے ۔ آپ غور کریں گے جب اپنے طور پر تو حیران ہوں گے کہ ہر نوع کے دلائل جو اہل اللہ یعنی ابرار لوگوں نے پیش کئے وہ بھی قرآن کریم نے محفوظ کر لئے ہیں اور ہر نوع کی کج بحثیاں اور بد تمیزیاں جو انبیاء کے مخالفین نے پیش کیں یا پیش کر سکتے تھے ان کو بھی قرآن کریم نے محفوظ کر لیا اور بظاہر ایک سلسلہ انبیاء کی باتیں محفوظ ہوئی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے پردے پر جتنے مذاہب ظاہر ہوئے ہیں وہ قرآن کے بیان کردہ دائرے سے باہر نہیں جاسکے۔ ان کے نیک لوگوں کا ذکر بھی قرآن کریم کے اندر مل جاتا ہے خواہ نام نہ لیا گیا ہو ان کے بدلوگوں کا ذکر بھی مل جاتا ہے، خواہ نام نہ لیا گیا ہو۔ اس مضمون کو آگے بڑھاتے بڑھاتے قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ جب وہ لوگ ، وقت کے علماء عاجز آجاتے ہیں، شروع میں دلائل سے بات کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں دلیل دینے کی ، پھر دلیل میں ان کو کس طرح مار پڑتی ہے، کس طرح وہ نامراد ہو جاتے ہیں اس کا ذکر فرماتا ہے۔ کس کس قسم کی دلیلیں دیتے ہیں اور جوابا انبیاء اور ان کے ماننے والے پھر ان کو شکست دینے کے کیا کیا طریق اختیار کرتے ہیں اور بالآخر لا ز ما وہ شکست کھا جاتے ہیں۔ اور جب ان کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہتی تو فرماتا ہے :