خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 591

خطبات طاہر جلدم 591 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء ہو کیونکہ تمہارے اعمال گندے ہیں۔اپنی کتابوں کی رو سے گندے ہیں۔اس لئے جو اس بات کے اہل ہیں شایان شان ہے جن کو کہ وہ پرانی تعلیمات پر بھی عمل کریں جو ان میں سے باقی رکھنے کے لائق ہیں اور نئی تعلیمات پر بھی عمل کریں تمہارا کوئی حق نہیں ان کو کاٹنے کا۔چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: وَتَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) (المائده: ۶۳) کہ تو ان میں سے اکثر کو اس حال میں پائے گا يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ کہ گناہوں کی طرف بڑھنے میں جلدی کرتے ہیں ایک دوسرے پر مسابقت کرتے ہیں ، وَالْعُدْوَانِ اور نا فرمانیاں اور Transgression حدود سے تجاوز کرنا اس میں بھی وہ بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔وَاكْلِهِمُ السُّخت اور حرام خوری کی جتنی قسمیں ہیں ان میں وہ ملوث ہو چکے ہیں، ہر قسم کے حرام مال ظلم کے ساتھ کھانے کے طریق ان میں رائج ہو گئے ہیں۔غریبوں کا مال لوٹ رہے ہیں ، دوسروں کی جائیداد میں ہڑپ کر رہے ہیں، رشوتیں دے رہے ہیں رشوتیں کھا رہے ہیں۔چوری چکاری ، افیم ، نشے کی چیزیں، خفیہ ریڈ ایسی جو ہر قسم کی گندگی کوجنم دینے والی عورتیں بیچنا، اغوا کرنا، مال کھانے کی جتنی بھی گندی قسمیں ہیں، فرماتا ہے اس میں تم آگے بڑھ رہے ہو اور نیکیوں کے محافظ بنتے ہو؟ وہ جو نیکی پر عمل کرتے ہیں اس پر اعتراض کر رہے ہو۔کیونکہ تمہارا اعتراض یہ ہے کہ بائبل کی نیک باتوں پر کیوں عمل کرتے ہو تم کیونکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ بائبل کا اعتراض ہوتا ، یہ میرا مطلب ہے، اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائبل پر عمل کرتے تھے تو نیک باتوں پر ہی عمل کرتے تھے۔تو قرآن کریم کی رو سے یہ اعتراض اس قوم کی طرف سے اٹھایا جارہا تھا گویا کہ، اٹھانا چاہئے تھا کہ تم عجیب لوگ ہو بائبل کی نیک باتوں پر کیوں عمل کر رہے ہو۔قرآن فرماتا ہے تم بائبل کی بد باتوں پر عمل کر رہے ہو جن سے روک رہی ہے اور حیا نہیں کر رہے اور نیکیوں کو روک رہے ہو کہ بائیبل کی اچھی باتوں پر عمل نہ کرو یہ مضمون بنتا ہے۔لیکن اس وقت یہ نقش ظاہر نہیں ہوا، آج ظاہر ہورہا ہے اور آج بائبل کی جگہ قرآن کریم نے لے لی ہے۔