خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 587

خطبات طاہر جلد۴ 587 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء قبلہ رہا یہ قدر مشترک رہی۔پہلوں پر اترنے والی ہدایت پر آپ ایمان بھی لاتے رہے اور عمل بھی فرماتے رہے ان کو کوئی غصہ نہیں آیا۔جو نہی قبلہ تبدیل کرنے کا حکم نازل ہوا اس وقت ان بیوقوفوں نے (اہل کتاب نے ) یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہمارا قبلہ کیوں چھوڑا ہے۔کہتے ہیں کہ کس بات نے ان سے تبدیل قبلہ کروا دیا ہے۔اچھا بھلا ہمارا قبلہ تھا اسے چھوڑا کر ایک نیا قبلہ اختیار کر گئے ہیں۔پس اشتراک پر غصہ ان کو بھی نہیں آیا اختلاف پر غصہ آیا ہے اپنے مذہب کی Monoply انہوں نے نہیں کی یہ نہیں کہا کہ ہمارے سوا ہمارے مذہب کو کوئی بھی مانے گا تو ہمیں غصہ آجائے گا اور اس کے برعکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی قرآن کریم نے یہی کیفیت ظاہر فرمائی کہ آپ مسلسل یہ چاہتے رہے کہ وہ اپنا قبلہ چھوڑ دیں اور ہمارا قبلہ لے لیں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلَبِنْ آتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ( البقره:۱۳۶) کہ اے محمد تیری تمنا بہت ہے نظر آ رہی ہے لیکن ہم تجھے بتاتے ہیں ( یہ تشریحی ترجمہ ہے) که با وجود تیری خواہش کے ہم تجھے بتا رہے ہیں کہ جتنے بھی نشانات ممکن ہیں تو ان کو دکھاتا چلا جایہ تیرے قبلے کی طرف منہ کبھی نہیں کریں گے اپنے قبلے پر قائم رہیں گے۔تو اگر رسول اکرم ﷺ کو یہ خواہش نہیں تھی کہ اس قبلے کو ساری دنیا اختیار کرلے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق یہ کہنا بالکل بے معنی ہے کہ تو نشان پر نشان چاہے دکھاتا چلا جا ہر گز یہ تیرے قبلے کو قبول نہیں کریں گے۔اور پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ( البقره :۱۳۶) ایک عظیم الشان ایک رہنما اصول پیش فرما دیا کہ قومیں یہ نہیں کیا کرتیں کہ دھوکہ دینے کی خاطر اپنا قبلہ چھوڑ کے کسی اور کا قبلہ پکڑ لیں جو بھی اعلان کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔خدا فرماتا ہے دنیا میں یہ نہیں ہوا کرتا قو میں اپنے ہی قبلے کو پکڑ کے رہتی ہیں اور کسی غرض کے لئے بھی وہ اپنے قبلے کو چھوڑ کر اپنے دشمن کا یا کسی اور کا قبلہ نہیں پکڑا کرتیں۔چنانچہ فرمایا کہ یہی ہو گا اس سے پہلے فرما چکا ہے وَمَا أَنْتَ بِتَابِع قبلتهم نہ انہوں نے تیرا قبلہ پکڑنا ہے۔نہ تو ان کا قبلہ پکڑے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ انسانی نفسیات ہے خدا تعالیٰ نے دستور بنا دیا ہے انسان کا اس سے وہ ہٹ نہیں سکتالا زما اس قبلہ پر رہتا ہے جس کو وہ حقیقی قبلہ سمجھتا ہے اور اس کو بدل نہیں سکتا۔خود حضرت اقدس محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا یہ دستور تھا اور صیح بخاری میں اس دستور کا دج