خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد۴ 52 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء اس کے نتیجہ میں احمدیت کو سمجھنے اور پہچاننے ہچاننے کے بارہ میں جو د پیپسی پیدا ہو سکتی تھی وہ خدا ۔ جو دلچسپی پیدا ہو سکتی تھی وہ خدا کے فضل سے پیدا ہورہی ہے اور اس کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔ احمدیت کے خلاف ان دنوں تیسری کوشش اشاعت لٹریچر کے ذریعہ کی گئی ہے جو بڑے وسیع پیمانے پر شائع کر کے تقسیم کروایا گیا ہے۔ تمام دنیا میں مختلف زبانوں میں بعض پمفلٹ تقسیم کروائے گئے پاکستان کے سفارت خانوں کے ذریعہ بھی اور براہ راست بھی جن میں سراسر کذب اور افتراء سے کام لیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کردار کشی کی کوششیں کی گئی ہیں جو عالمگیر جماعت احمدیہ کے لئے انتہائی تکلیف کا موجب ہیں ۔ خصوصاً پاکستان کے احمدیوں کے لئے جہاں دن رات اخباروں میں بھی یہی چرچا ہو رہا ہے اور حکومت وقت کروڑوں روپیہ خرچ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلوا رہی ہے اور خود بھی دے رہی ہے اور اس ذمہ تکذیب میں کسی بھی دنیاوی عقلی ، انسانی اور اخلاقی قانون اور ضابطے کا قطعاً کوئی پاس نہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مختلف زبانوں میں ایسے ایسے فرضی قصے بنا کر شائع کئے جا رہے ہیں اور تمام دنیا میں انکی تشہیر کی جارہی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے انسان حیران ہو جاتا ہے کہ اس مہذب دور میں بھی ایسی اخلاقی گراوٹ کے نمونے دیکھے جاسکتے تھے! ایک عام انسان میں بھی اگر وہ چیزیں پائی جائیں تو ایک انتہائی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتی ہیں چہ جائیکہ حکومتی سطح پر اخلاق سے گری ہوئی باتیں رونما ہوں ۔ حکومتیں تو خواہ دہر یہ ہی کیوں نہ ہوں وہ داری کا ثبوت دیا کرتی ہیں، ان کی زبان میں کچھ وقار اور اسلوب حکمرانی میں کچھ شائستگی ہوتی ہو ہے جس کی وہ بالعموم پیروی کرتی ہیں اور خواہ کسی فریق کو وہ کتنا ہی برا اور دشمن سمجھتی ہوں پھر بھی وہ دنیا کے رسمی تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظ رکھتی ہیں۔ لیکن دنیا میں ایک پاکستان ہے جہاں نمونے کی ایک ایسی حکومت قائم ہوگئی ہے جس نے تمام اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور تمام اخلاقی قیود کو توڑ کر پھینک دیا ہے اور احرار کی ایک ایسی عامیانہ زبان اختیار کر لی ہے جو کبھی موچی دروازہ لاہور یا امرتسر کے بازاروں میں سنی جاتی تھی یا پھر ان دنوں سنائی دیتی تھی جب ان کے فرضی فاتح قادیان پر حملے کیا کرتے تھے۔ اب وہ زبان حکومت پاکستان کی زبان بن گئی ہے اور اس حکومت کے مزاج پر ، اس کے کردار پر اور ان کے طرز حکومت پر احراریت کا پوری طرح رنگ آچکا ہے۔ چنانچہ یہی وہ تصویر ہے جو