خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد۴ 572 خطبه جمعه ۲۸/ جون ۱۹۸۵ء جاتا ہے تو قرآن کہتا ہے شَرَّ الدَّوَ آبِ عام چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ شریر اور گندہ جانور وہ ہے جو خدا کے نزدیک جو آنے والے کا کفر کرے اور اس کا انکار کر دے فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ اور مانے پر آمادہ ہی نہ ہو کسی طرح اور تیار ہی نہ ہو اس بات پر توشر الدَّ وَ آبِ اور شر من تحت اديم السماء کے ایک ہی معنی ہیں، ایک ہی معنوں میں دو محاورے استعمال ہوئے ہیں وہ بھی چھپا جاتے ہیں۔پس قوم کو متنبہ کرنا چاہئے کہ بھئی خطرہ محسوس کر و قرآن نے خبر دی بڑے شریر لوگوں کی آنحضرت ﷺ نے بتادیا ہے کہ کہاں ملیں گے وہ۔قرآن نے اصولی تعلیم دی ہے حضرت رسول کریم ﷺ نے انگلی رکھ دی کہ یہ وہ لوگ ہیں۔تو دجال والی حدیثیں یا درہ جاتی ہیں اور اپنے متعلق جو شریر کا لفظ اور آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کے لفظ آنحضرت ﷺ نے فرمائے ہیں وہ چھپا جاتے ہیں اور یاد کرواؤ تو غصہ آتا ہے کہتے ہیں ہم تمہیں ماریں گے تم کیسی باتیں ہمیں یاد کرواتے ہو۔پھر جب ہم دیکھتے ہیں وہ کیا مطلب ہے سور اور بندر کا تو اس کے متعلق قرآن میں ہمیں آیت ملتی ہے۔مَنْ لَّعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ (المائدہ: ۶۱) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور ان میں سے خدا تعالیٰ نے بندر بھی بنا دیئے اور سؤر بھی بنا دیئے ہیں تو کیسے بندر اور کیسے سور ہیں یہ کن لوگوں میں ملیں گے؟ جس پر وحی نازل ہو رہی ہے اس کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ کن لوگوں میں ملیں گے۔چنانچہ وہ اصدق الصادقین سب بچے انسانوں سے بڑھ کر سچ بولنے والے نے فرمایا ہے کہ ان کو اس وقت مولویوں میں تلاش کرنا۔جب فتنے پھیلیں گے، اختلافات ہونگے تو لوگ ہدایت کی غرض سے مولوی کے پاس جائیں گے تو تم دیکھنا وہاں سور اور بندر ہونگے۔تو قرآن جو اصولی تعلیم دے رہا ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ انگلیاں اٹھا اٹھا کر دکھا رہے ہیں کہ کون وہ لوگ ہیں، کہاں تمہیں ملیں گے اور یہ پڑھتے ہیں ان کتابوں کو اور چھپا جاتے ہیں تُبْدُونَهَا وَ تُخْفُونَ كَثِيرًا کی کیسی عجیب مثال ہے۔غرضیکہ ہر پہلو سے وہ چیزیں جو پہلی قوموں نے کیں ان کو آج کی قو میں بھی دہرا رہی ہیں۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے: صلى الله