خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 566

خطبات طاہر جلدم 566 خطبه جمعه ۲۸/ جون ۱۹۸۵ء صاحب رحمت نہ ہو تو ان کا عذاب تو ان پر پہلے مقدر ہو چکا ہے۔بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدُ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْ بِلا لیکن انکے لئے ایک وعدہ مقرر ہے ، ایک وعدہ کا دن ہے۔کیوں وعدہ ہے اس مضمون کو وَرَبُّكَ الْغَفُورُةُ والرَّحْمَةِ کھول رہا ہے۔فرماتا ہے ہم اس لئے عذاب میں جلدی نہیں کرتے ، اس لئے عذاب دیر سے آتا ہے تا کہ انکو استغفار کا موقع مل جائے ، تا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور انکی مغفرت فرمائے۔پس وہ مومن یا مومنوں میں سے بعض جو گھبرا جاتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کے پیاروں کو اتنے دکھ دیئے جارہے ہیں ، اتنی گالیاں دی جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کو کوئی خیال نہیں آتا، کیوں خدا ان پر بجلی نہیں گراتا، کیوں انکو نہیں پکڑتا؟ ان کا جواب ہے کہ خدا تعالیٰ بہت ہی غیر معمولی مغفرت فرمانے والا ہے۔بندوں کی مغفرت کے تصور سے اس کا مغفرت کا تصور بہت بالا ہے وہ بے انتہا رحمت فرمانے والا ہے اس لئے وہ انکو مہلت دیتا چلا جاتا ہے تا کہ وہ استغفار کریں اور تو بہ کریں اور وہ خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے فائدہ اٹھا سکیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کلیہ بیچ کر نکل جائیں گے۔ان کا ایک ایسا دن مقرر ہے اور ایک ایسا عذاب مقدر ہے کہ جس سے وہ کسی طرح کسی پناہ میں نہیں جاسکتے۔کوئی موئل انکے لئے نہیں ہے، کوئی پناہ گاہ انکے لئے باقی نہیں ہے۔یہ ہے عمومی مضمون قرآن کریم کا جس سے پتہ چلتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ تاریخ دہرائی جاتی ہے بلکہ قرآن کریم نے اس تمام تاریخ کو محفوظ بھی فرمایا لیا ہے اور ہر قسم کی مثل قرآن کریم میں موجود ہے۔اس پہلو سے جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو بیسیوؤں پہلو ہیں انبیاء کے انکار کے اور حق کی مخالفت کے جن کو نہایت ہی لطافت اور نہایت ہی باریکی کے ساتھ بھی خدا نے محفوظ فرمایا ہوا ہے اور کھلے کھلے لفظوں میں ان کے نمایاں پہلو بھی ہمارے کے سامنے کھول کر رکھے ہوئے ہیں۔کوئی پہلو ایسا باقی نہیں ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود نہ ہو بلکہ قوموں کا نفسیاتی تجزیہ بھی پیش فرمایا گیا ہے پھر کیوں ان کو غلط فہمی ہوتی ہے؟ کیوں دہ دھوکا کھاتے ہیں۔کیا ان کے مقاصد ہوتے ہیں؟ تمام تفاصیل قرآن کریم میں موجود ہیں لیکن چونکہ وقت کی مجبوری ہے اس لئے میں نے آج کے خطبہ کیلئے چند آیات چنی ہیں جن میں مِنْ كُلِّ مَثَلِ اللہ تعالیٰ نے چند بنیادی مثلات مذکور فرما دی ہیں۔ایک بات جو بڑی اہم ہے اور جو انسان کے عمومی رویے کا پتہ دیتی ہے کہ