خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 557

خطبات طاہر جلدم 557 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء جب ہم یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ تدریجی نشان ظاہر کریں تو اس میں حکمت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ طریق موسیٰ کے ساتھ اختیار کیا کہ وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا که هم رفتہ رفتہ نشان ظاہر کر رہے تھے اور ہر اگلا نشان پہلے نشان سے زیادہ بڑھ کر تھا اور پھر اس کے بعد آنے والا نشان اس سے زیادہ آگے بڑھ کر تھا اور پھر اس کے بعد آنے والا نشان اپنی پکڑ میں اس سے بھی زیادہ بڑھ کر نمایاں اور سخت تھا فرماتا ہے کس لئے ؟ اس لئے نہیں کہ جس طرح ظالم آدمی کسی کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے اور اس کو دکھ پہنچانے کیلئے ذہنی عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتا ہے یہ تو رحمن خدا کا کلام ہے۔اس کی تدبیر ہے وہ ہرگز ظلم کی خاطر ایسے افعال نہیں کیا کرتا۔فرماتا ہے لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں تا کہ انہیں واپس لوٹنے کا موقع مل جائے ، وہ دیکھیں اور سمجھیں اور غور کریں اور نصیحت پکڑیں تا کہ جتنے بھی ان لوگوں میں سے بچ سکتے ہیں وہ بچ جائیں۔پس اس سے میں یہ سمجھتا ہوں ان تمام امور پر غور کرنے کے بعد کہ دس جمعۃ المبارک رمضان شریف میں جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کے یہ پہلو کھل کر اب سامنے آگئے ہیں۔اول ان نشانوں کا ایک سلسلہ جاری ہوا ہے جو وہیں رُک جانے والا نہیں اور جب میں غور کرتا ہوں اس نظارے پر جو میری آنکھوں کے سامنے ابھی بھی اُسی طرح روشن ہے کہ گھڑی کا دسواں ہندسہ دھڑک رہا تھا روشن الفاظ میں۔روشنی بجلی کا بھی نشان ہوتی ہے اور رحمت کا بھی نشان ہوا کرتی ہے یعنی روشنی بعض دفعہ عذاب کی تجلی کا بھی نشان ہوتی اور بعض دفعہ تبشیر کی بجلی کا بھی نشان ہوتی ہے تو اس ہند سے کا دھڑ کنا بتاتا ہے کہ یہ ایک دفعہ ہونے والا واقعہ نہیں ہے اس کا آغاز دسویں جمعہ کو جو چاند کی دسویں ہوگی اس سے ہوگا اس جمعہ کو یہ بات شروع ہو جائے گی اور پھر یہ نشان دھڑ کے گا اور بار بار رونما ہوگا اور قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ خوشخبری ملتی ہے کہ اس لئے ہوگا تا کہ قوم میں جولوگ ہدایت پانا چاہتے ہیں جن کے مقدر میں ہدایت ہے ان کو خدا تعالیٰ اس کا موقعہ عطا فرما دے۔دوسرا میں اس سے یہ سمجھا ہوں کہ پاکستان کو جو خطرات در پیش ہیں ان کی نشان دہی کر دی گئی ہے کہ کہاں کہاں سے وہ خطرے ہیں۔ایک پاکستان کو جنوب سے خطرہ در پیش ہوگا اور جس طرح سمندری طوفان کی صورت میں یہ تنبیہ کی گئی بعید نہیں کہ وہ خطرہ سمندر ہی کی طرف سے درپیش ہو وہ کس شکل میں ہوگا یہ ہم ابھی نہیں