خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 555
خطبات طاہر جلدم 555 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء بلکہ غیر معمولی قومی سطح کی اہمیت کا واقعہ تھا اور اس کے بعد صدر ضیاء الحق صاحب خود وہاں پہنچے اور وہاں جا کر انہوں نے جو بیان دیا ہے اخباروں میں وہ شائع ہو چکا ہے۔چنانچہ صدر ضیاء الحق صاحب کو بھی آپ جانتے ہیں کوئی جماعت کے ہمدردوں میں سے نہیں ہیں۔تو حکومت کی سطح پر جو شرارت کروانے والے لوگ ہیں ان کو بھی خدا نے نشان دکھایا اور ان سے اقرار کروایا کہ دس رمضان کا جو جمعہ ہے یہ تمہارے لئے ایک تنبیہ کے طور پر آیا ہے اور اس کو نظر انداز نہ کرو۔انگلستان کی ٹیلی ویژن جو ITV کہلاتی ہے اس نے بھی ایک خاص رنگ میں اس خبر کو دکھایا جنرل ضیاء الحق صاحب کی تصویر بھی دکھائی اور یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے بارڈر کے نزدیک روس نے بمباری کی ہے جو غالبا افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب تھی یہ کہنے کے بعد نیوز کاسٹر نے یہ فقرہ بولا General Zia of Pakistan flew himself to examine the bomded area and it was on the Friday 31st of May۔اب یہ فقرہ کہنا It was on the Friday 31st the May یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے نمایاں طور پر نکلوایا اور اس دن کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ تو پہلے ہی انتظار میں لگے ہوئے تھے ، دیکھ رہے تھے اور ان کا دل چاہتا تھا کہ کچھ ظاہر ہو اور ہم اپنے دوستوں اور ان لوگوں میں جن میں تشہیر کر چکے ہیں ان کو کہہ سکیں کہ دیکھو یہ خدا کی طرف سے ایک نشان تھا جو ظا ہر ہو گیا اس لئے دشمن کہہ سکتا ہے کہ یہ ان کی خوش فہمیاں تھیں Wishful Thinking تھی۔چاہتے تھے کہ کچھ ہو جائے کچھ ہوا اور انہوں نے کہہ دیا کہ دیکھو ہو گیا ہو گیا لیکن ضیاء الحق صاحب تو نہیں چاہتے کہ کچھ ہو جائے ” لولاک کے مدیر تو نہیں چاہتے تھے کہ کچھ ہو جائے ، جماعت اسلامی کے سربراہ تو نہیں چاہتے تھے کچھ ہو جائے۔ان کی تو نگا ہیں خدا نے دس مئی پر ہی مرکوز رکھیں اور وہ بھول ہی گئے کہ دس رمضان کا بھی ایک جمعہ آنے والا ہے۔اگر ان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات آجاتی کہ جماعت احمد یہ اسے خدا تعالیٰ کے ایک نشان کے طور پر پیش کرے گی تو شاید قیامت بھی ٹوٹ پڑتی تو وہ منہ سے کچھ نہ بولتے یا اپنے قلم سے کچھ نہ لکھتے۔تو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک واضح نشان تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے نتیجہ میں پورا بھی ہوا اور ایک رنگ میں عذاب ٹل بھی گیا۔