خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 554

خطبات طاہر جلدم 554 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء طرح ڈھرک رہا تھا۔ایک اور شدید معاند احراری اخبار ” لولاک“ جو جماعت احمدیہ کی مخالفت پر وقف ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے خلاف انتہائی گند بولتا ہے وہ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا اور ادارتی سرخی اس نے جمائی ” خدائی وارنگ اب یہ بھی تصرف الہی ہے کہ جماعت کے جان و مال اور عزت کی دو بڑی دشمن جماعتیں ایک جماعت اسلامی اور ایک جماعت احرار ان دونوں کے منہ سے خدا نے یہ اقرار کروا دیا کہ یہ دس تاریخ کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک غیر معمولی نشان ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وارننگ ہے اور پھر اس اداریہ میں ”لولاک کے مدیر لکھتے ہیں۔ہمیں بار بار سوچنا چاہئے کہ ہم کہاں کہاں اور کیسے خدائے بزرگ و برتر کی نافرمانی کے مرتکب ہورہے ہیں۔اہل کراچی کو آپس کی سر پھٹول اور با ہمی مخاصمت چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہئے اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا عہد کرنا چاہئے۔وہ خوش قسمت ہیں کہ ایک بڑی آزمائش سے بچ گئے یہ سمندری طوفان ان کے لئے خدائی وارننگ ہے۔ان کے لئے نہیں تمہارے لئے بھی خدائی وارننگ ہے بلکہ تمہارے لئے زیادہ ہے کیونکہ یہ تمہاری ہی سکھائی ہوئی تدبیریں ہیں جن کو بروئے کار لا کر پاکستان میں خدا کے نام پر مظالم توڑے جارہے ہیں اور وہ لوگ جن کا قصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انہوں نے یہ کہار بنا اللہ اللہ ہمارا رب ہے، تم ہمارے رب نہیں ہو ان کو اس قصور کے نتیجہ میں طرح طرح کی سزائیں دی جارہی ہیں۔تو جو ان حرکتوں کے علمبر دار ہیں ان کے لئے وارننگ ہے۔یہ تو پاکستان کے جنوب میں واقع ہونے والا ایک نشان تھا۔اب شمال کی خبر سنیں وہاں کی اطلاعات کے مطابق جو اخبارات میں بڑی بڑی نمایاں سرخیوں کے طور پر شائع ہوئیں اور پھر اس کے ساتھ مضامین بھی آئے ۳۱ رمئی بروز جمعہ دس رمضان المبارک کو افغانستان کے Mig21 ہوائی جہازوں نے چترال میں دروش کے مقام پر جو چترال کا دوسرا بڑا شہر ہے ایک بھر پور حملہ کیا۔اسمبلیوں اور اخباروں میں خوب شور اور غوغا اور نالہ و فریاد کئے گئے ، صوبہ سرحد کے اخباروں نے شہ سرخیاں جمائیں، صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیر اعلیٰ وہاں پہنچے۔یعنی یہ کوئی معمولی عام بمباری کا واقعہ نہیں تھا