خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 545

خطبات طاہر جلدم 545 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء ہے، تشدد میں بھی وہی سب سے زیادہ Involve ( ملوث ) ہے اور اس ستم میں بھی وہاں چار مولوی صاحبان بیٹھے ہوئے تھے پھر ان کو واپس بیرک میں بھیج دیا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد پھر پانچوں کو اکٹھا بلا کر چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ کھڑا کر کے شناخت پریڈ کرائی گئی ان چار مولویوں میں سے دو کو بلا کر شناخت پریڈ کرائی جن کو پہلے ہی اپنے دفتر میں اچھی طرح ان کے چہرے دکھا چکے تھے اور گفتگو کروا چکے تھے۔جس احمدی نوجوان پر نہایت ہی ظالمانہ تشدد ہوا ہے اس کے متعلق بھی وہ بڑے صاف گو ہیں ہمارے احمدی بچے کسی جگہ بھی پولیس کو غلط ملوث نہیں کرتے ہر جگہ لکھ رہے ہیں کہ عام طور پر سکھر میں پولیس کا رویہ شریفانہ تھا۔یعنی جن حالات میں ہمیں پکڑا گیا جس طرح مولویوں کا دباؤ تھا ، ویسے ظلم نہیں کئے گئے جیسے تھر پارکر کی پولیس نے وہاں کے ڈپٹی کمشنر کے حکم کے نتیجے میں کئے۔حتی المقدور وہ ظلم سے بچتے رہے سوائے ایک ڈی ایس پی کے جو ہر بات میں پیش پیش تھا اور وہ مولوی سرشت رکھتا تھا۔کہتے ہیں کہ ایوب کو جو خود ہی ربوہ سے اپنی فیملی کو لے کر آرہا تھا پہلے پولیس کا ایک دستہ ربوہ بھجوایا گیا وہاں سے پکڑنے کے لئے۔یہ کہانی بنائی گئی گویا واردات کر کے بھاگ کر ربوہ جاچکا ہے اور وہ از خود ربوہ کے لئے پہلے ہی روانہ ہو چکا تھا۔پولیس کو یہ بتایا گیا کہ ربوہ والے ایسے ظالم اور خبیث اور سفاک لوگ ہیں کہ جو تم وہاں جارہے ہو اب شاید تم سے دوبارہ ملنا نصیب نہ ہو۔اس لئے آخری دفعہ الوداع کہہ جاؤ اور گلے لگ جاؤ کیونکہ اب شاید تمہار اواپس آنا ممکن نہ رہے۔وہ جب گئے تو ان کے ساتھ بالکل اور سلوک ہوا۔ہر آدمی کو خلیق پایا، ہر آدمی روزے میں دیکھا ان کے آثار ہی اور تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ وہ بیج تو تقریباً احمدی ہو چکا ہے اب واپس آکر مسلسل احمدیت کی تبلیغ کر رہا ہے اور یہ جو فیملی تھی ایوب اور ان کے بچے یہ براہ راست خود پہنچ رہے تھے۔چنانچہ وہاں کی پولیس نے بذریعہ تار ان کو اطلاع کر دی کہ وہ آرہے ہیں۔چنانچہ یہ مجرم دیکھیں ذرا کس قسم کے ہیں احمدی معصوم ! اڑھائی سو آدمیوں کی نفری لے کر ایس ایس پی خود ان کو گرفتار کرنے کے لئے وہاں خود پہنچا ہے۔اتنا خطر ناک مجرم از خود واپس آرہا ہے اور ان کے بھائی ان کے ساتھ جو سلوک کا واقعہ لکھتے ہیں وہ یہ ہے: ایوب کو پہلے تو ایسے ہی پوچھ کچھ کرتے رہے مگر پھر اس کو چوبیس گھنٹے ہاتھ اوپر باندھ کر