خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 544

خطبات طاہر جلدم 544 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء سے بھی ) کا مال سمجھ کا مال سمجھ کر پولیس لے جاتی رہی۔ہم لوگ زیر حراست ان سب باتوں کوسن کر صبر کے آنسوؤں کا نذرانہ اپنے مالک حقیقی کے حضور پیش کرتے رہے۔“ سکھر سے ایک دوست لکھتے ہیں ” میرے بھائی مکرم شر ما صاحب کی دوکان اور گودام اسلام کے نام پر گویا اسلام کی خاطر لوٹ لئے گئے۔کراچی کے ایک صاحب جو کراچی سے ایک دستہ دے کر وہاں موقع پر بھجوائے گئے تھے کیونکہ وہاں کوئی مرد بھی باقی نہیں تھا اور بچے بیچارے بڑی کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے ان کا خیال رکھنے کے لئے جہاں ان کو پولیس نے ایک جگہ کیمپ بنا کر رکھ دیا تھا ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جماعت کراچی نے اپنے نو جوانوں کو بھجوایا۔وہ لکھتے ہیں میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ۲۴ رمئی کو کراچی سے سکھر ڈیوٹی کے لئے آیا تھا کیونکہ اطلاع ملی تھی کہ سکھر کے تقریباً تمام مردوں کو ہم کیس کے سلسلے میں حراست میں لے لیا گیا ہے اور عورتیں اور بچے گھروں میں اکیلے ہیں۔۲۷ / تاریخ کو صبح ۴:۴۰ پر پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا جہاں ہم سور ہے تھے اور ان چھ لڑکوں کو جن میں سے ۵ کراچی کے اور ایک روہڑی کا تھا گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔سارا دن پولیس کے اسٹیشن میں رکھا اور رات کو نو بجے کے قریب وہاں سے پولیس لائن سکھر میں شفٹ کر دیا گیا جہاں پر باقی احمدی اسیران راہ مولیٰ موجود تھے۔ہم میں سے سات افراد پر شناخت کر کے الزام لگا دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واردات میں ملوث ہیں کچھ اور لوگوں کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہاں شناخت کیسے ہوتی ہے؟ یہ ایک موقع کے گواہ ہمارے خیر پور ضلع کے ایک بڑے مخلص احمدی نوجوان ہیں وہ قید میں ہیں ان کا بھائی بھی تشدد کا شکار تھا اور ان کو بھی نہایت دردناک طریق پر زدو کوب کیا گیا۔یہ لکھتے ہیں: شناخت پریڈ کا عجیب طریقہ دیکھا کہ پہلے ہمارے چار، پانچ دوستوں کو ایک ایک کر کے اپنے دفتر میں بلاتے ( ڈی ایس پی مظہر ہے کوئی جس کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ ساری حرکت کر رہا