خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 543 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 543

خطبات طاہر جلد۴ 543 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء ملتی ہے کہ وہ دشمن جولڑنے کی نیت سے مسلمانوں کو غارت کرنے کی نیت سے آیا کرتا تھا اس کے متعلق بھی اپنے غلاموں کو یہ ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو کچھ نہیں کہنا۔یہاں ایک معصوم انسان خدا کی عبادت کر کے نکلا اور دیر تک مسجد میں بیٹھا اس بات پر روتا رہا کہ ان ظالموں نے ہمیں اذان کی اجازت بھی ہم سے چھین لی ہے۔وہ جب مسجد سے باہر نکلتا ہے تو یہ چار جوان برچھوں سے اس پر حملہ کر کے اس کا جسم چھید تے ہیں اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہیں کہ یہ اسلام کی خدمت ہو رہی ہے۔ان کے دونوں بچوں کو اب اس الزام میں قید کر لیا گیا ہے کہ اس مسجد میں جو سکھر کی ایک پرانی مسجد بتائی جاتی ہے اس میں ایک بم پھٹا تھا اور اس میں یہ دونوں ملوث ہیں۔تو اس کے علاوہ ابھی مختلف علاقوں کے احمدیوں کو بکثرت پکڑا گیا اور ظالمانہ طور پر ان کو حبس بیجا میں رکھا گیا۔یہی ہمارے سابق امیر صاحب سکھر قریشی عبدالرحمن صاحب شہید کا بیٹا لکھتا ہے کہ: و گزشتہ ماہ کی تئیس تاریخ کو خاکسار کو سب سے پہلے گھر سے بلایا اور ڈی ایس پی نے گرفتار کر لیا یہ کہہ کر کہ تم نے ایک منصوبہ کے تحت مسجد منزل گاہ جو ایک تاریخی مسجد ہے پر بم پھینکوایا ہے۔اس کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ بڑھتارہا میرے گھر سے نکلتے ہی بچوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور بچوں نے بڑی کسمپرسی کی حالت میں گھر چھوڑ “ پھر وہ فرماتے ہیں: ”سرکاری ملازم کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ تنخواہ پر گزارہ ہوتا ہے جو مہینہ ختم ہونے سے پہلے ختم ہو جاتی ہے پھر حضور والا خالی ہاتھ گھر سے باہر نکال کر بچوں پر ایک نفسیاتی خوف طاری کرنا کہاں کی شرافت ہے کیا حکام کی ماں، بہن یا بہو بیٹیاں نہیں ہیں ؟ اس کے بعد میری غیر حاضری میں گھر کی تلاشی لی گئی۔جس بے دردی کے ساتھ الماریوں اور صندوقوں کے تالے توڑے گئے۔وہ نا قابل بیان ہیں گویا گھر کے سامان کو سامانِ سر یغمال سمجھ لیا گیا ہے جو قیمتی چیز ہاتھ آئی وہ لے اُڑے۔احمدیوں کے گھروں سے عورتیں در بدر کی گئی اور سامان کی بے دردی سے تلاشی لی گئی سامان کو لوٹ (یعنی دوسرے احمدیوں کے گھر