خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 542

خطبات طاہر جلدم 542 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء دوسرے سے اس بات پر لڑائیاں شروع ہوئیں کہ پہلے کس کا نمبر آنا چاہئے۔کیونکہ اب جماعتی انتظام کے مطابق طلب کیا گیا تھا جو چاہتا ہے وہ شوق سے سامنے آئے کسی کو زبر دستی کلمہ لگانے کا کوئی حکم نہیں ہے کیونکہ کلمہ پڑھنا کلمہ پر ایمان رکھنا تو ایک فریضہ ہے۔کلمہ سینہ پر لگا کر پھر نا تو کوئی ایسا شرعی فرض نہیں ہے کہ جس کے لئے خلیفہ وقت حکم دے۔تو جماعت نے خوب اچھی طرح واضح کر دیا ، یہ یہ تکلیفیں دی جارہی ہیں ، یہ اس کے نتائج نکلتے ہیں ہوسکتا ہے کہ تمہارے بچوں کے مستقبل تاریک ہو جائیں بظاہر دنیا کے لحاظ سے۔ہوسکتا ہے ان کو لمبے جسمانی آزار لگ جائیں۔اس لئے سوچ سمجھ کر اپنے نام پیش کرو اور جماعت کے عہدیداروں کی اطلاع یہ ہے کہ ہزار ہا احمدی جوش و خروش کے ساتھ لائن میں کھڑا تھا اور کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان کی تجارتوں کا کیا بنتا ہے؟ ان کی زمینوں کا کیا بنتا ہے؟ بلکہ عورتیں بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے نام پیش کر رہی تھیں کہ ہمیں بھی موقع دو ہمارا بھی حق ہے۔مائیں اپنے بچوں کے نام پیش کر رہی تھی ، بہنیں اپنے بھائیوں کے نام پیش کر رہی تھی اور پھر مجھے خط لکھتی تھیں اللہ نے ہمارے ویر کوتو فیق عطا فرمائی۔کاش آپ ہمیں بھی اجازت دیں ہم بھی وہاں جائیں جہاں ہمارا بھائی ماریں کھا تا ہوا پہنچا ہے۔عجیب دن ہیں یہ وہ لیلۃ القدر ہے۔نادانوں کو کیا علم کہ لیلتہ القدر کیا ہوتی ہے؟ چودہ سو سال کی دوری سے تاریخ اسلام کو دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ ہوتے تو یہی کرتے۔ہر گز نہیں اس زمانے میں ہوتے تو وہی کرتے جومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے غلاموں سے کر رہے تھے آج بھی تو وہی کر رہے ہیں۔ظلم اور سفا کی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف جماعت کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف جھوٹے الزام لگا کر مزید ان کو قتل کے مقدموں میں پھنسایا جارہا ہے۔سکھر میں ہمارے امیر ضلع بڑی بے دردی کے ساتھ شہید ہوئے۔اسی (۸۰) کے لگ بھگ ان کی عمر تھی اور ان کو جب شہید کیا گیا تو چار فدائین اسلام جو بنے ہوئے تھے جو اسلام کی خدمت کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے انہوں نے گولیاں بھی ماریں اور برچھے لے کر آئے ہوئے تھے اور ہر آدمی اللہ اکبر کہہ کر بر چھا اس بوڑھے کے جسم میں داخل کرتا تھا اور بڑے فخر کے ساتھ نعرے لگا رہا تھا کہ میں ہوں غازی جس نے اسلام کی یہ عظیم الشان خدمت کر دی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق متواتر احادیث میں یہ اطلاع