خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 541
خطبات طاہر جلدم 541 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء چھوڑ دیں گے۔خدا کی قسم ! اگر جسم کا قیمہ بھی بنا دو گے تو ہر بوٹی کے ہرسانس سے کلمہ طیبہ بلند ہو گا اس کے سوا ہم اور کچھ نہیں جانتے۔“ ایک باپ اپنے بیٹے کے متعلق لکھتا ہے کہ تھر پارکر میں علمائے دین کا زور ہے اور کلمہ کے بیج لگانے والوں پر برس پڑتے ہیں اور پولیس کو ساتھ لے کر پکڑواتے اور پھر ان پر سختی کرواتے ہیں اور پھر اپنے سامنے پولیس سے مرواتے ہیں۔میرالڑ کا جو کہ سب سے چھوٹا ہے بی۔اے میں میر پور خاص میں پڑھتا ہے۔اس کو کنٹری پولیس نے اتنا مارا کہ بار بار بے ہوش ہو جا تا تھا۔ہوش آنے پر پانی مانگتا تھا تو نہیں دیتے تھے اور وہ پھر کلمہ طیبہ پڑھنا شروع کر دیتا تھا اور پھر اسے مارتے تھے اور پھر وہ مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جاتا تھا۔“ یہ باپ اپنے بیٹے کے متعلق لکھتا ہے: الحمد للہ! اللہ کا احسان ہے کہ میرے بچوں کو خدا نے صدق اور ایمان سے نوازا ہے۔ہر دفعہ بے ہوشی کے بعد اس کے منہ سے کلمہ طیبہ ہی نکلا اور کوئی شکوہ کی صدا بلند نہیں ہوئی اور اس کے بعد جب وہ ضمانت کے بعد گھر آیا تین دن تک اس کے پیشاب میں خون آتا رہا۔میں نہیں جانتا کہ کیا نقصان اس کے اندر پہنچ چکا ہے۔“ کنری اور تھر پارکر اور دیگر علاقے کے احمدیوں نے عظیم الشان قربانیاں دی ہیں جہاں احمد یہ اسٹیٹس ہوا کرتی تھیں اور نوجوان لکھتے ہیں کہ ہم نے تو حوالات میں اور قید خانوں میں جنگل میں منگل بنارکھا تھا۔یہ لوگ ہمیں کلمہ سے چھڑانے کے لئے اذیتیں دے کر وہاں پہنچاتے تھے اور وہاں ہم عبادتیں کرتے تھے اور بلند آواز میں کلمہ ہائے تو حید بلند کرتے تھے اور در و دیوار پر کلمہ لکھ دیتے تھے۔کہتے ہیں عجیب منظر ہے اور عجیب وہ زندگی کے دن تھے جن کی لذت ہم بھلا نہیں سکتے اور باہر جو تھے لکھتے ہیں کہ ہمارے سو سے زائد نوجوان تو اس طرح دکھ اٹھاتے ہوئے جیل میں گئے اور ہم باہر تڑپ رہے تھے کاش ہماری باری آئے اور ایک دوسرے سے مقابلے ہونے شروع ہوئے اور ایک