خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 540
خطبات طاہر جلدم 540 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء میں مارکھا کر تو ہنستا تھا لیکن خدا کی قسم اس حالت میں میری چھینیں نکل گئیں اور پھر اسلام کے ان خدمت گاروں نے کہا اپنی شلوار میں اتارو ہم ننگے بدن پر جوتیاں ماریں گے اور تمہیں ذلیل کریں گے پھر تمہیں پتہ لگے گا کہ کلمہ طیبہ سے محبت کا کیا نتیجہ نکلا کرتا ہے۔کہتے ہیں ہجوم تھا ، مولوی تھے اور دواڑ ھائی سوتماش بین تھے جو خاموش تماشاد یکھتے رہے۔پھر ان کا بڑا منشی آگیا اور اس نے پھر اپنی کسر نکالی۔وہ جو بید لے کر آیا تھا اس سے اس نے مارنا شروع کیا اور جب وہ مارتا تھا ہم پھر کلمہ پڑھتے تھے، اور اسی طرح بالآخر انھیں حوالات میں بند کر دیا گیا۔“ ایک ہمارے معلم وقف جدید ایک مجاہد سے مل کر آئے اس کا واقعہ انہوں نے لکھا ہے: ایک مجاہد کو اس لئے مارتے رہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کلمہ توحید اپنے سینے سے اتارتا نہیں تھا وہ مارکھا تا رہا مگر زبان سے کلمہ توحید ہی بلند کرتا رہا۔پھر کپڑے اتارے اور پھر اسے مارنا شروع کیا۔پھر بھی وہ کلمہ توحید ہی بلند کرتا رہا۔پھر اسے الٹالٹا کر اس کی گردن پر پاؤں رکھ دیا گیا اور ساتھ مارتے رہے (وہ کہتے ہیں) مسیح محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرسبز شاخ کا کہنا ہے کہ دل سے تو اس وقت بھی آواز بلند ہورہی تھی مگر گردن پر پاؤں کا ایساد باؤ تھا کہ آواز گردن سے باہر نہیں نکلتی تھی۔پھر جب اس ظالم نے پاؤں اٹھایا تو پھر میں نے کلمہ توحید بلند آواز سے پڑھا۔اس پر پھر اسی طرح مجھے لٹا کر مارنا شروع کر دیا گیا۔(وہ بھی لکھتے ہیں کہ ) اس موقع پر ایک دفعہ مجھے ہنسی آئی تو ایس ایچ او نے سندھی میں کہا کہ تو تو بہت بڑا ڈاکو ہے، اتنے بڑے شدید تشدد کے باوجود تو اس اپنی حرکت سے باز نہیں آرہا۔( یعنی اتنا بڑا جرم ہورہا ہے پاکستان میں کلمہ طیبہ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ پڑھا جا رہا ہے ) تو اس نے کہا کہ میں اس بات پر تو نہیں ہنسا کہ تم مجھے ماررہے ہو میں تو اس بات پر ہنسا ہوں کہ تم بیوقوف سمجھتے کیا ہو کہ ہم تمہاری ماروں کے نتیجہ میں کلمہ طیبہ