خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد۴ 539 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء بازاروں میں پھر ایا گیا اور جوتیاں مارتے چلے جاتے تھے اور گندی مخش گالیاں دیتے چلے جاتے تھے اور کہتے تھے یہ دیکھ لو ان کا کلمہ اور یہ ہے اس کلمہ کی جزاء۔تاریخ اسلام کو پڑھنے والے ذرا ایسے واقعات لائیں تو سہی کس کثرت سے ان کو نظر آتے ہیں۔اس تاریخ نے اب بیچے دیئے ہیں یہ وہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کا وہی فیض ہے جو اب بکثرت اب ظاہر ہونے لگا ہے اور اس زمانہ کے منکرین اور جھوٹ بولنے والے یہ کہنے والے مؤرخین کہ یہ سب قصے ہیں جو بعد میں قصے بنالئے جایا کرتے ہیں۔ان کا منہ توڑ دیا ہے احمدیت کی قربانیوں نے ہمیشہ کے لئے ان کے قلم کند کر دیے ہیں جو اسلام کی تاریخ پر یہ الزام لگایا کرتے تھے کہ یہ سب بعد کے فرضی قصے ہیں۔بہت زیادہ واقعات ہیں آپ کو کون کون سے واقعات پڑھ کر سناؤں۔ایک صاحب میر پور خاص کے ہیں وہ لکھتے ہیں: ”ہم تینوں کلمہ کا بیج لگا کر شہر میں گھومنے لگے اس کے بعد دو پولیس والے آئے ہمیں گرفتار کر لیا۔پھر تھانے لے گئے وہاں جا کر پوچھنے لگے کہ تم نے یہ کلمہ کا بیج کیوں لگایا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ کلمہ سے ہمیں محبت ہے اس لئے لگایا ہے۔وہ کہنے لگے ابھی تمہاری محبت نکالتے ہیں۔پھر انہوں نے مار دھاڑ شروع کر دی، پہلے تھپڑ مارتے رہے اور جب وہ تھپڑ مارتے تھے ہم بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھتے تھے۔پھر انہوں نے کہا کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ نہ پڑھو مرزا صاحب کا کلمہ پڑھو۔ہم نے انکار کیا اور بتایا کہ ہمارا کلمہ تو محمد مصطفیٰ ہی کا کلمہ ہے اور یہی کلمہ ہم جانتے ہیں اور یہی پڑھیں گے۔تو اس کے بعد انہوں نے چمڑے کے جوتے منگوائے اور ان سے مارنے لگے۔جتنی زور سے ہمیں مار پڑتی تھی اتنی ہی زور سے ہم کلمہ شہادۃ بلند کرتے تھے۔آخر جب وہ مار مار کر تھک گئے تو ( یہ لکھنے والے کہتے ہیں کہ ) مجھے ہنسی آگئی۔اس پر وہ پولیس کا افسر جانور کی طرح مجھے پر جھپٹا اور شدید غصہ کی حالت میں اس نے میرے سینے سے کلمہ نوچ کر پاؤں تلے روند ڈالا۔( کہتے ہیں )