خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 538
خطبات طاہر جلدم 538 خطبہ جمعہ ۱۴ جون ۱۹۸۵ء ہے۔خصوصاً سندھ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا اور ایسی ایسی حیرت انگیز باتیں ظہور میں آرہی ہیں جن کو آپ کبھی تاریخ اسلام میں پڑھا تو کرتے تھے لیکن تعجب کی نگاہ سے۔بعض دفعہ دل مانتا نہیں تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے لیکن اب ایک یا دو تاریخ اسلام کے تعجب کے واقعات نہیں رہے بیسیوں واقعات ہیں جو دوبارہ اس زمانہ میں اللہ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کی کوکھ سے پیدا ہور ہے ہیں۔جماعت احمد یہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان تاریخی حقائق کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے۔کلمہ طیبہ کے لئے چند مثالیں آپ تاریخ اسلام سے بار ہا پیش کرتے رہے اور دنیا کو بتاتے رہے کہ اسلام کے آغاز میں اس طرح کلمہ کی خاطر قربانیاں دی گئیں تھیں۔ان واقعات کو پڑھ لیجئے اور ان واقعات کو سنئے جواس وقت رونما ہورہے ہیں اور انصاف سے اپنے دل میں یہ سوچیں کہ کیا حقیقیہ اسی شان کے ساتھ ، اسی آن بان کے ساتھ تاریخ اسلام حضرت محمد مصطفی عملے کے آخرین غلاموں میں دوبارہ زندہ ہورہی ہے کہ نہیں ہو رہی؟ بہت تفصیلی اور بڑے لمبے واقعات ہیں ایک یا دو کی بات نہیں ہے۔میں صرف ایک دو واقعات نمونے کے طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک صاحب ہیں ہمارے ایک نوجوان کریم نگر فارم کے ان کے متعلق اطلاع ملی کہ ان کو جب کلمہ طیبہ لگانے کے جرم میں گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا تو پہلے تو دھوپ میں بٹھا دیا گیا۔اور وہاں کی دھوپ آج کل کی شدید گرمی میں بہت تکلیف دہ چیز ہے۔جس طرح ہم سنا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے غلاموں کو بھی کلمہ شہادۃ پڑھنے کے جرم میں دھوپ میں کھڑا رکھا گیا۔ایسے واقعات عام وہاں رونما ہوئے ہیں۔کہتے ہیں ان کو دھوپ میں کھڑا رکھا گیا اور جب اس کے باوجود وہ کلمہ پڑھنے سے باز نہ آئے اور کلمہ کا بیج اتارنے سے انکار کیا تو ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر دو گھنٹے دھوپ میں درخت سے لٹکائے رکھا اور پھر چار پائی پرلٹا کر شدید گندی گالیاں دی گئیں اور مارا گیا۔جب پانی مانگتے تھے تو اس کے جواب میں گالیاں دیتے تھے۔اس کے بعد ایک ایسی جگہ جہاں چیونٹیوں کا سوراخ تھا اس بل پر ان کو بٹھا دیا گیا کہ زخموں کو چیونٹیاں چاٹیں اور اس سے زیادہ تکلیف پہنچے۔پولیس شہر کے غنڈہ عناصر کو اور علماء کو ساتھ لگا لیتی تھی اور ہمارے نوجوانوں کو ڈنڈے مارتے ہوئے اور گالیاں دیتے ہوئے شہر سے گزارتی تھی اور علماء بھی ساتھ گندی گالیاں دیتے چلے جاتے تھے اور جب اس کے باوجود احمدی نوجوانوں نے کلمہ کا انکار کرنے سے انکار کر دیا تو بعض کو ننگا