خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 533

خطبات طاہر جلدم 533 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء سے پانی زیادہ گہرا ہو جائے گا احتیاط کرو۔لیکن یہ تو عرفان کا پانی ہے، یہاں احتیاط کی خاطر سختی نہیں لگائی گئی بلکہ یہ بتانے کے لئے کہ اسے سطح سے دیکھنے والے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ایک ہی برابر گہرائی میں پانی بہہ رہا ہے۔اب یہ وہ مقام شروع ہو رہا ہے جہاں بہت غیر معمولی گہرائی آنے والی ہے۔اس لئے اس پر غور کرو اس میں غوطے لگاؤ تاکہ عرفان کے موتی تلاش کرو۔پس اس پہلو سے ایسی تمام سورتیں غیر معمولی توجہ کی محتاج ہیں جہاں و ما ادراک کا محاورہ رکھ کر انسانی ذہن کو جھنجھوڑا گیا ہے اور خاص مضمون کے لئے تیار فرمایا گیا ہے۔لیلۃ القدر بھی انہی راتوں میں سے ایک رات ہے یا ان زمانوں میں سے ایک زمانہ ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی توجہ کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔پس بعض لوگ تو ایک رات کی تلاش میں سرگردان رہتے ہیں اور سرگرداں گزر جاتے ہیں اور اس سال بھی ایسے بہت سے لوگ کروڑ ہا لوگ ایسے راتوں کو اٹھتے رہے اور بقیہ وقت میں اٹھتے رہیں گے جن کو ان چند ثانیوں کی تلاش ہوگی جو گناہوں کی بخشش کا پیغام دے کر ہمیشہ کے لئے ان کو وداع کہہ دیں اور پھر وہ آزاد چھوڑ دیں پھر جو چاہیں کرتے پھریں اور کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ایک لمبی لیلۃ القدر میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔اس ظاہری رات کی بھی وہ قدر کرنے والے لوگ ہیں اور اس زمانے کی بھی قدر کرتے ہیں جس زمانے میں اللہ تعالیٰ ان سے قربانیاں چاہتا ہے اور اللہ کی اطاعت کی خاطر تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہے۔پس یہی وہ لوگ ہیں جو در حقیقت اس لیلۃ القدر کے بھی حق دار ہیں جو چند لمحوں کے لئے آتی ہے اور اس لیلۃ القدر کے بھی حقدار ہیں جو ایک لمبا زمانہ رکھتی ہے۔آج جماعت احمد یہ بفضلہ تعالیٰ ایک ایسی لیلۃ القدر میں سے گزر رہی ہے جو قومی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے، ایسا غیر معمولی کہ تاریخ عالم پر نگاہ دوڑائی جائے تو بعض دفعہ سینکڑوں سال کے بعد ایسی راتیں ظاہر ہوتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قدر کا مطالبہ فرماتا ہے اور اپنی اطاعت کی خاطر ان سے قربانیاں مانگتا ہے اور پھر جب وہ قربانیاں پیش کرتے ہیں تو وہ ان کی قدر فرماتا ہے۔دکھوں کی راتوں میں بھی ان کے ساتھ رہتا ہے اور ان راتوں کے وقت بھی طلوع ہونے والے دنوں کی خوشخبریاں عطا فرماتا ہے اور پھر لا زما وہ دن بھی طلوع فرما دیا کرتا ہے جو عظیم تر بشارات لے کر ان پر ظاہر ہوا کرتے ہیں۔