خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 522
خطبات طاہر جلدم 522 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء کی تعمیر میں شامل ہے۔پاکستان کی تعمیر میں جماعت احمدیہ کا ایسا دخل ہے جیسے برتھ مارک Birth) (Mark کوانسانی وجود کے ساتھ تعلق ہوا کرتا ہے۔ہم اُن کی پیدائش کے مراحل میں شامل ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ پاکستان اور احمدیت کے وجود کو اس ملک کی تاریخ میں الگ کیا جا سکے۔اس کی ساری دفاعی مہمات میں جماعت احمدیہ صف اوّل میں شامل رہی ہے۔برتھ مارک (Birth Mark) کو آپ کس طرح الگ کر سکتے ہیں جب تک وہ وجود زندہ ہے وہ برتھ مارک بہر حال باقی رہتا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک سائنس دان نے ایک دفعہ اپنے ایک محبوب کے چہرے سے برتھ مارک دور کرنے کی کوشش کی ایک چھوٹا سا بچے کا پنجہ لگنے کا نشان تھا جو رحم مادر میں اس کے چہرے پر پڑ چکا تھا اور وہ اس کو بڑ الگتا تھا کہ اتنی کامل حسینہ اور اس کے باوجود یہ چھوٹا سانشان ہے جومٹ نہیں رہا۔تو ظاہر یہ کرنا ہے لکھنے والے نے کہ برتھ مارک کو کوئی الگ نہیں کر سکتا وجود سے سوائے اس کے کہ زندگی چھوڑ دے اس کا ساتھ۔چنانچہ اس سائنس دان کے متعلق لکھا گیا ہے کہ جب اس نے آخر وہ دوائی ایجاد کی جس کے نتیجہ میں میں برتھ مارک مٹ سکتا تھا اور وہ دوائی پلا کر اس نے جائزہ لینا شروع کیا آہستہ آہستہ اس کا رنگ پیلا پڑنا شروع ہوا پھر اور مدہم ہوا پھر سفیدی مائل ہو گیا یہاں تک کہ برتھ مارک کا رنگ اور جلد کا رنگ بالکل ایک ہو گیا لیکن وہی لمحہ اُس کے آخری سانس کا بھی تھا زندگی نچڑ رہی تھی جسم سے اس کے ساتھ وہ برتھ مارک الگ ہوا ہے، اس کے بغیر الگ نہیں ہوا۔تو جب تک تم پاکستان کی روح نہیں نچوڑتے تم جماعت احمدیہ کو پاکستان سے کبھی الگ نہیں کر سکتے۔ہم تو اس کی برتھ کے اندر شامل ہیں، اس کی پیدائش کا ایسا جزولاینفک ہیں کہ اسے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔سب سے زیادہ ہم اس ملک کے ہمدرد ہیں، سب سے زیادہ اس کے دفاع میں ہمیں دلچسپی ہے اور ان سارے مظالم کا جن کا میں نے ذکر کیا ہے سب سے زیادہ دکھ جماعت احمد یہ کو پہنچ رہا ہے۔اس لئے ایک غریبانہ نصیحت کے سوا میں اور کیا کہ سکتا ہوں۔صورت حال میں آپ کے سامنے کھول دیتا ہوں۔یعنی اس وقت ملک کے تمام دانشور میرے مخاطب ہیں صرف احمدی مخاطب نہیں ہیں۔تمام اہل فکر و دانش ، تمام سیاست دان ان باتوں پر غور کریں معلوم کریں جو میں کہہ رہا ہوں یہ سچائی ہے یا نہیں اور ادنی سا بھی ان کے اندر تقویٰ ہو، انصاف پسندی ہو تو بلاتر درد یہ مانتے چلے جائیں گے کہ ہاں یہ تجزیہ بالکل درست ہے، اسی طرح ہوا ہے۔جب اسی طرح ہوا ہے تو اس کو ٹھیک