خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 512
خطبات طاہر جلدم 512 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء کے پیچھے یہی پرانی عصبیتیں کام کر رہی ہیں جن کی جڑیں آپ کو تاریخ اسلام میں جگہ جگہ پیوست ہوتی ہوئی دکھائی دیں گی۔تمام عالم اسلام کو اکثر جگہ شیعہ سنی فساد میں بانٹ دیا گیا ہے شیعہ گروہ اور سنی گروہ۔اور جہاں شیعہ اور سنی اختلاف یہ کارنامہ نہیں دکھا سکا وہاں دوسرے امور وہ بھی مولویوں کی طرف سے جو ظاہر ہوئے ہیں۔انہوں نے اسلامی حکومتوں کو لزرہ براندام کر رکھا ہے۔چنانچہ ملائیشیا میں اور انڈونیشیا میں وہی ”سلطان غیر شرعی کے نام پر ایک آواز بلند ہورہی ہے کہ ہمارے سلاطین جو ہیں، ہماری حکومتیں جو ہیں یہ غیر شرعی ہیں۔اس لئے اسلام کو سب سے بڑا خطرہ انڈونیشیا کے حکمرانوں سے ہے۔اسلام کو سب سے بڑا خطرہ ملائیشیا کے حکمرانوں سے ہے اور اسلام کے نام پر وہاں اُن حکومتوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں دیو بندی سب سے بڑا خطرہ احمدیت سے دیکھ رہا ہے اور سارے پاکستان پر اس کا قبضہ اس عذر پر ہے کہ نہایت ہی شدید خطرہ احمدیت سے عالم اسلام کو لاحق ہو چکا ہے اور ہم اس کے مجاہدین ہیں اس کے خلاف لڑنے والے۔اس لئے ہماری بات سنو، باقی سب طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لو اور تعجب یہ ہے کہ پاکستان کا سیاستدان اس بات کو دیکھ نہیں رہا اور سمجھ نہیں رہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو نہ شمال سے خطرہ ہے نہ جنوب سے، نہ مشرق سے ، نہ مغرب سے، اگر پاکستان کو کوئی خطرہ ہے تو ملائیت سے خطرہ ہے اور ساری تاریخ ملائیت کی بتا رہی ہے کہ یہ کس طرف قوموں کو لے جایا کرتی ہے ، کس طرح عظیم سلطنتوں کو ہلاک کر دیا کرتی ہے اس کے باوجود ہمارا سیاست دان آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہوا ہے بلکہ بعض دفعہ ملوث ہو جاتا ہے خود۔ملائیت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا جرم کرتا ہے۔چنانچہ پاکستان میں جہاں تک ملائیت کے عروج کی تاریخ کا سوال ہے اس میں بہت بڑا کر دارد یو بندی علماء کا ہے۔اگر پین کی تباہی کی ذمہ داری مالکی علماء پر ڈالی جاسکتی ہے تو پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی بھاری ذمہ داری دیو بندی علماء پر ڈالی جائے گی اور مؤرخ انہیں کبھی معاف نہیں کر سکے گا۔قائد اعظم کے دور میں ملائیت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ایک قوم تھی اور باہم ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح گزارہ کر رہے تھے سارے، ایک محبت کا پیار کا ماحول تھا۔نئی نئی سلطنت اسلام کے نام پر ملی تھی اور ایک بہت ہی پاکیزہ پر امن ماحول تھا اور سارے اس بات میں کوشاں تھے کہ کسی