خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 509
خطبات طاہر جلد۴ 509 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء نہیں اس لئے ہم سے تفصیل کچھ نہ پوچھو۔بس گزر جاؤ یہ مرثیہ پڑھتے ہوئے کہ ایک بہت بڑی بتاہی آئی تھی عالم اسلام پر۔اور بعض مورخین کچھ تفاصیل بھی بیان کرتے ہیں۔بعض لکھتے ہیں کہ کتابوں کی جو بہت عظیم الشان لائبریریاں قائم تھیں اور تمام دنیا کا علمی مرکز بنا ہوا تھا بغداد میں ان کتابوں کو جلا کر ان کی خاک دجلہ میں بہائی گئی اور دجلہ کالا ہو گیا اُنکی راکھ اور خاک سے۔بعض کہتے ہیں کہ اُسی طرح ان کتابوں کو دجلہ میں بہا دیا گیا۔بعض کہتے ہیں کہ جو مقتولین تھے ان کی کھوپڑیوں کے منار بنائے گئے جو بیسیوں میں سے دکھائی دیتے تھے۔اور بعض بتاتے ہیں ہمیں کہ جو تباہی ہوئی ہے عمارتوں کی بربادی ہوئی ہے اتنا خوفناک منظر ہے کہ تاریخ میں شاید پھر کبھی دوبارہ دیکھنے میں آئے۔کھلا قتل عام مسلسل چلتا رہا۔یہاں تک کہ صرف عام ظلم نہیں ہے قتل وغارت کا بلکہ دینی طور پر بھی انتہائی مظالم توڑے گئے۔عیسائیوں کو اور بد مذھبوں کو کھلی چھٹی دی گئی کہ وہ مساجد کی بے حرمتی کریں۔شراب عام کر دی گئی۔مسجدوں میں اصطبل بنوادیئے گئے اور اسلامی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ حکماً اذان بند کی گئی۔وہ سب سے بڑا بد بخت انسان جس نے اسلام کے نافذ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ تاریخ میں اذان بند کی ہے وہ ہلاکو خاں تھا۔چنانچہ مؤرخین بڑے درد سے یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ ہلاکو خاں کے حکم سے بغداد میں پھر اذانیں ہونی بند ہو گئیں اور تمام مسجد میں خاموش ہوگئیں۔اس تباہی کے وقت میں ابن سیمی نے پیغام بھیجا ہلا کو خاں کو کہ چونکہ تم میری دعوت پر ہی آئے ہواس لئے مجھے ملاقات کا موقع دو آپس میں طے کریں کہ اب کیا کرنا ہے ابن علقمی وہاں گیا اپنی جان کی پناہ لی اور ایک سازش کے مطابق واپس آکر مستعصم باللہ کو یہ کہا کہ تم سب کی جان بخشی کی ضمانت میں لے آیا ہوں اس لئے تمام فقہاء، علماء تمہارے اور بزرگ اور قاضی اور بڑے بڑے لوگ یہ سارے میرے ساتھ چلیں اور وہاں جا کر بڑی عزت افزائی کے ساتھ تمہاری جان بخشی کی جائے گئی اور تمہیں چھوڑ کر وہ اسی طرح چلا جائے گا جس طرح اہل روم میں اس نے اپنا خلیفہ اپنا نا ئب مقرر کر دیا ہے تمہیں اپنا نائب مقرر کر دے گا۔چنانچہ لوگ جب پہنچے تو بلا استثناء سب کو قتل کروادیا گیا سوائے ابن علقمی کے لیکن ابن علقمی کو بھی جو اس کی تمنا تھی وہ دیکھنی نصیب نہ ہوئی اور بڑی حسرت سے وہ مرا ہے بعد میں کیونکہ اس کی جو یہ خواہش تھی کہ شیعہ حکومت قائم ہو جائے گی اسکے نتیجہ میں ، ہلاکو خاں نے وہ بھی نہ ہونے دی۔