خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 506

خطبات طاہر جلدم 506 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء مسلمان فوجیں داخل ہورہی تھیں اور فرانسیسی حکومت کا نپ رہی تھی اور بار بار تحائف بھجوا رہی تھی اور ہر قسم کے معاہدے کرنے کے لئے تیار تھی اور خیال یہ تھا کہ فرانس کے بعد پھر یورپ میں اور کوئی طاقت نہیں تھی جو مسلمانوں کو روک سکتی لیکن چونکہ اندرونی فسادات ہورہے تھے ایک کے بعد دوسرے عالم ایک دوسرے عالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور پھر علما ءمل کر اسلامی حکومتوں کے خلاف فتوے دے رہے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ خالصہ غیر دینی بادشاہ ہیں، غیر اسلامی بادشاہ ہیں، شریعت سے ہٹے ہوئے ہیں اس لئے ان کو بزور ختم کر کے ان کی جگہ کوئی با شرع انسان حکومت پر فائز کیا جائے۔تو اسلام کے نام پر عالم اسلام کی وہ بظاہر خدمات سرانجام دے رہے تھے لیکن اسلام کے نام پر اتنا شدید نقصان عالم اسلام کو پہنچارہے تھے کہ اس کی کوئی نظیر دنیا کی کسی اور قوم میں نظر نہیں آتی۔آپ تاریخ پر نظر دوڑا کے دیکھیں آپ کو دنیا کی کسی قوم میں یہ واقعات نظر نہیں آئیں گے کہ مذہب کے علماء نے خود اپنے اہل مذہب کی حکومتوں کو تباہ کروا دیا ہوا ور وہ حکومتیں غیروں کے ہاتھ بیچ دی ہوں اور ان غیروں کے ساتھ مل کر سازشیں کی ہوں۔بہر حال یہ ایک بہت ہی دردناک دور ہے۔ایک طرف اسلام کی ترقیات پر نظر پڑتی ہے تو دل حمد سے بھر جاتا ہے دوسری طرف ان مسلمان علماء کے کردار کو انسان دیکھتا ہے تو غم سے دل بھر جاتا ہے اور کٹنے لگتا ہے ان باتوں کو دیکھ کر جگر پارہ پارہ ہونے لگتا ہے۔عظیم الشان اسلامی سلطنتیں ایسی جن میں پھیلنے کی طاقتیں تھی ، جو وسعت پذیر تھیں اور کسی لمحہ بھی تمام دنیا میں سوائے اسلامی حکومت کے کوئی حکومت باقی نہ رہتی ان حکومتوں کو اندر سے ان علماء نے کھالیا۔جہاں تک مغرب میں علماء کا تعلق ہے مالکی علماء نے سب سے زیادہ اسلامی حکومتوں کو تباہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور جہاں تک مشرقی حکومت کا تعلق ہے وہاں شیعہ سنی فسادات اور دونوں طرف کے علماء ذمہ دار ہیں لیکن آخری تباہی جو مسلمان سلطنتوں کی ہوئی ہے وہ شیعہ علماء کے ذریعہ ہوئی ہے۔اس کا آغاز ۴۴۳ ہجری میں ہوا ہے جبکہ عبداللہ جو قائم بامر اللہ کہلا تا تھا، وہ خلیفہ تھا۔اس کے دور میں وہ غیر معمولی شیعہ سنی فساد ہوا ہے جس نے آئندہ ہمیشہ کے لئے فسادات کا بیج بو دیا۔نہایت ہی خوفناک شیعہ سنی فساد ہوا جس کے نتیجہ میں سینکڑوں جانیں تلف ہوئیں، مقبرے اکھاڑے گئے، پرانے مدفون ائمہ کو قبروں سے اکھیڑنے کی سازشیں کی گئیں اور بہت ہی خوفناک فساد تھا جو پھیل گیا۔