خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 504
خطبات طاہر جلدم 504 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء ترقی کے اس دور میں روحانی ترقی بھی جاری رہی ہے لیکن جب ہم محض روحانیت کی بات کرتے ہیں تو حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ اور آپ کے خلفاء راشدین کے بعد کا کوئی دور بھی اس دور کے مقابل پر روشن دور نہیں کہلا سکتا اسی لئے میں نے شروع میں ہی نمایاں طور پر یہ بات آپ کے ذہن نشین کی کہ ہم اسے اسلام کے سیاسی دور کے طور پر ایک نمایاں دور قرار دے سکتے ہیں۔دوسری حکومت جس کی بنیاد مغرب میں ڈالی گئی اور وہ مغربی حکومت ہی کہلاتی تھی اس کی عبد الرحمن بن معاویہ کے ذریعہ اندلس میں بنیاد پڑی اس سے پہلے تقریباً ۳۳ سال پہلے یا ۳۴ سال پہلے اس حکومت کی تو در اصل طارق بن زیاد نے بنیاد ڈال دی تھی لیکن اس وقت تک یعنی عبد الرحمن کے وہاں جانے تک کوئی مستحکم اسلامی حکومت و ہاں اس رنگ میں قائم نہیں ہوئی تھی کہ مستقل بنیادوں پر وہ چین میں ایک عظیم الشان حکومت کی داغ بیل ڈال سکے مگر بہر حال وہ سرزمین جسے طارق بن زیاد اور اس کے بعد بعض اور مجاہدین نے بڑی قربانیوں کے ساتھ مسلمانوں کے لئے سر کیا جب اموی حکومت ٹوٹی تو اموی شہزادہ عبد الرحمن مغرب کی طرف اپنی جان بچانے کے لئے بھا گا لیکن چونکہ ان شہزادگان کی بہت عزت تھی اس لئے جب یہ سپین پہنچا تو سپین میں اس کا بہت احترام کیا گیا اس کی بڑی عزت افزائی کی گئی اور اندلس کی حکومت اس کو گویا پیش کر دی گئی۔چنانچہ جو اصل حکومت اندلس میں قائم ہوئی ہے وہ عبد الرحمن اول کے زمانہ میں یہ قائم ہوئی اور یہ ۱۳۳ھ سے ۷۲ اھ تک بڑی شان کے ساتھ وہاں حکومت کرتے رہے اور ہر پہلو سے اسلامی حکومت کی بنیا دوں کو استوار اور مستحکم کیا۔اسی دور میں اسلامی حکومتوں کو تباہ کرنے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی بھی بعض بنیادیں پڑ گئیں اور یہ ایک عجیب تضاد ہے اور بڑا ہی دردناک واقعہ ہے کہ یہ بنیا دیں غیر کی طرف سے نہیں مسلمان علماء کی طرف سے ڈالی گئیں اور تمام مورخین اس بات میں متفق ہیں کہ ان عظیم اسلامی سلطنتوں کی تباہی کا راز مسلمان علماء کے باہمی اختلاف میں ہے۔جتنے فسادر ونما ہوئے ، جتنا عالم اسلام میں اندرونی قتل وجدال ہوا اور کئی قسم کی بھیانک خون ریزیاں ہوئیں ان سب کی بڑی اور اہم ذمہ داری اس وقت کے علماء پر عائد ہوتی ہے۔چنانچہ علماء دوحصوں میں بٹ گئے ایک وہ جو خدمت کرنے والے علماء تھے اور خالصہ اللہ کے لئے ہو چکے تھے اور کچھ وہ علماء جنہوں نے دین کے نام پر اسلام میں فسادات پھیلائے اور اسلام کو خطرہ بیان کر کے خود مسلمان حکومتوں کے لئے