خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 44

خطبات طاہر جلدم 44 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء دھاندلیوں کے باوجود بھی اُٹھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اُن سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔کھل کر بعض مجھے کہتے ہیں، کہتے ہیں ہم اپنی قوم کی نفسیات سے باخبر ہیں ہوگا یہ کہ چونکہ یہ اقتدار بظاہر پانچ سال کے لئے پختہ ہو چکا ہے خوب گڑھ گیا ہے اس لئے اب جتنی بھی قوم ہے اس میں سے ہر پارٹی کے لوگ بھیڑ چال کے طور پر آگے دوڑیں گے اور ہر ایک یہ سوچے گا کہ میں اس موقع سے پیچھے نہ رہ جاؤں۔اس سے پہلے جنہوں نے تعاون کیا تھا پانچ ، چھ سال ہو گئے سات سال ہو گئے کسی کو ابھی تک وہ موجیں لوٹتے رہے اور ہم باہر بیٹھے خواہ مخواہ منہ دیکھتے رہ گئے اب ایک اور موقع خدا نے دیا ہے کیوں نا آگے بڑھو اور اس پارٹی کے ساتھ شامل ہو جو حکومت کے ساتھ ہے۔اگر ان کو ملاں چاہیئے تو ملاں کے بھیس میں سامنے آؤ ، اگر ان کو جھوٹے لوگ چاہیں تو جھوٹے لوگ بن کرسامنے آؤ اگر ان کو بد کردار چاہئے تو بدکردار ہو کر سامنے آؤ ہر چیز کو قربان کرد و مگر اپنے نفس کو قربان نہ کرو، ہوش کرو۔عقل کرو آگے بڑھو اور جو وقت کا آمر کہتا ہے اس کے مطابق عمل شروع کردو۔یہ ہے قوم کی نفسیات ان کہنے والوں کے نزدیک اور جو تازہ تازہ دیکھ کر آئے ہیں وہاں کے حالات وہ کہتے ہیں کہ بالکل یہی کیفیت ہے تم دیکھو گے کہ اچانک ایک بند ٹوٹ جائے گا ہر ایک ، ایک دوسرے سے خوشامد میں سبقت کرنے لگے گا۔ہر ایک اپنے سابقہ دعاوی سے منہ موڑلے گا اور کہے گا کہ غلطی ہوگئی تھی اب ہمیں ہوش آگئی ہے آپ تو بچے مسلمان دنیائے اسلام کے حسن اعظم ، آپ تو اس لائق ہیں کہ آپ کو امیر المؤمنین کہا جائے ، خلیفہ المسلمین کہا جائے آپ سے عدم تعاون کر کے ہم نے اپنی دنیا اور عاقبت دونوں بگاڑنے ہیں؟ یہ کہتے ہوئے تو بہ کرتے ہوئے لوگ آگے آئیں گے اور ٹکٹ مانگنا شروع کر دیں گے اور اُس وقت پھر عوام کو روک کوئی نہیں سکے گا یہ جب ایک دفعہ بندٹوٹ جائے اور ہلا بولا جائے تو ریفرنڈم والا حال نہیں ہوگا۔اس وقت ایک آدمی کا انٹرسٹ (Interest) تھا ریفرنڈم کے وقت اب وہ کہتے ہیں ساری قوم کے اندر چھوٹے چھوٹے حلقوں میں ہر مقامی لیڈر کی دلچسپی اس بات میں ہوگی کہ وہ آگے آجائے۔تو ایک آدمی کی دفعہ تو وہ بیٹھے رہے تھے عدم دلچسپی کے ساتھ گھروں میں ان کو پرواہ ہی کوئی نہیں تھی کوئی ان کو ووٹ ڈالتا ہے یا نہیں ڈالتا لیکن اب جبکہ وہ آچکے ہیں اب تو ساروں کو پرواہ ہو گئی ہے ان کی اور اپنی خاطر ہر حلقے میں کچھ حصہ وقت کی حکومت کے پجاری پیدا ہو جائیں گے اور ان کو روک نہیں سکے گا پھر کوئی۔چنانچہ اگر اخبارات کی خبریں درست