خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد۴ 45 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء ہیں تو اس قسم کا ماحول پیدا بھی ہو چکا ہے۔تو انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی یہ کوئی وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا خوشخبریوں کا ؟ مگر ان کو پتہ نہیں کہ یہی تو وقت ہوا کرتا ہے مذہب کی دنیا میں تو یہی وقت ہوا کرتا ہے باہر کی دنیا کا مجھے علم نہیں جب رات خوب بھیگ جاتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے، جب وقت رینگنا بھی بند کر دیتا ہے یوں لگتا ہے کہ اب مصائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اس وقت خدا کی رحمتیں جلوہ دکھاتی ہیں اور بڑی قوت کے ساتھ دلوں پر الہام کرتی ہیں کہ تمہاری فتح کی صبح طلوع ہونے والی ہے اس لئے مایوس نہیں ہونا۔اس لئے یہی تو وقت ہے ورنہ تو ہم دنیا کے بندے ہوں گے ، پھر ہم میں اور خدا کے بندوں میں فرق کیا ر ہے گا۔میں نے کہا کہ تم دنیا کی علامتیں پڑھتے رہو اور فیصلے دیتے رہو میں تو وہی کہوں گا جو خدا مجھے کہتا ہے۔اللہ کی حکمت بالغہ زیادہ جانتی ہے کہ وہ وقت کب آئے گا مگر خوشخبریوں کا وقت بہر حال آچکا ہے ورنہ وہ کبھی خوشخبریاں نہ دیتا۔ان کے پورا ہونے کے دن کب ہوں گے یہ میں نہیں جانتا لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ خوشخبریاں دینے کا وقت آچکا ہے۔یہ وقت ہے کہ قوم کولاز ما بتانا پڑے گا کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور خدا تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا اس لئے اسی خدا نے جس نے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے فرمایا فَاعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرُ أى خدا کے کلام میں میں آپ سے عرض کرتا ہوں اور آپ کو سمجھاتا ہوں کہ ان لوگوں سے اعراض کریں اور انتظار کرتے رہیں یہ تقدیر تو بہر حال کوئی ٹال نہیں سکتا کہ آپ نے لاز ما فتح یاب ہونا ہے کوئی دنیا کی طاقت اس تقدیر کو ٹال نہیں سکتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں نے لازماً ذلیل اور رسوا ہونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے در مشین صفحه: ۹۴) اس لئے یہ باتیں کہنے کا تو ابھی وقت ہے۔مگر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امیدیں بندھ جائیں اور لوگ جلدی سمجھنے لگ جائیں اور کچھ تاخیر ہو جائے اور پھر دلوں کو ٹھوکر لگے اور پھر آپ کو بھی صدمہ پہنچے کہ او ہو یہ کیا ہو گیا۔بعض لوگوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے یعنی مجھے سمجھاتے ہیں