خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 501
خطبات طاہر جلدم 501 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا! تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد دیگا نہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح“ کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ چشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جوخدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جواس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ “ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۹،۲۶۸)