خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 493
خطبات طاہر جلدم 493 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء دوسرے جب ہم اس واقعہ پر غور کرتے ہیں تو کئی سبق ملتے ہیں پہلا یہ کہ خدا تعالیٰ جب کسی قوم کو پکڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی پکڑ کے رستے بہت ہیں۔بسا اوقات وہ ایسے رستہ سے بھی پکڑتا ہے جس کی قوم توقع ہی نہیں کر سکتی ، وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرف سے بھی کوئی واقعہ رونما ہو گا۔۱۹۷۴ء کے فسادات کے بعد قوم مختلف ابتلاؤں میں بار بار پکڑی گئی مثلاً بلوچستان کی خشک پہاڑیوں پر غیر متوقع بارش کے نتیجہ میں سندھ میں ایک ایسا سیلاب آیا تھا جس کا آدمی وہم وگمان بھی نہیں کرسکتا کہ بلوچستان کے خشک پہاڑ سیلاب کا موجب بن جائیں گے لیکن بلوچستان کے پہاڑوں کے سیلاب کی وجہ سے سندھ کا بہت سا علاقہ تباہ ہوا۔چنانچہ اخباروں میں اس بات کی نمایاں سرخیاں لگیں۔پس اللہ تعالیٰ کی جب پکڑ آتی ہے تو معلوم بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی پکڑ کے مختلف رستے ہیں۔وہ قادر وتو انا خدا ہے وہ اپنی قدرت کے نشان دکھاتا ہے اور زمین کی ہر چیز کو جب چاہے وہ امر فرما سکتا ہے تب وہ جگہ جو امن کا ذریعہ بھی جاتی ہے خطرہ کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے کا فیصلہ کر لے تو پھر کوئی آدمی امن میں نہیں رہ سکتا اور یہ مضمون بھی قرآن کریم کی مختلف آیات میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔خدا کی تقدیر سے تم کسی طرح امن میں رہ سکتے ہو۔وہ تو پابند نہیں ہے وہ جس طرح چاہے تمہیں پکڑنے کا فیصلہ کر لے تو پھر تمہارے لئے بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔اس نہایت مہیب خطرہ کے ایک دم ظاہر ہونے اور پھر اس کے ٹل جانے میں ایک خوشخبری بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ عذاب دینے میں خوش نہیں ہے۔وہ تنبیہ فرماتا ہے اور خطرات سے متنبہ کرتا ہے اور قوم کو استغفار کا موقع دیتا ہے۔اگر قوم استغفار کرے اور تو بہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالیٰ اس بات میں راضی نہیں ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور وہ پکڑ میں ڈھیلا ہے اور نرمی کرتا ہے۔یہاں تک نرمی کرتا ہے کہ بسا اوقات انبیاء بظاہر جھوٹے ہوتے دکھائے دے رہے ہوتے ہیں اور دنیا کو ان کی تضحیک اور تمسخر کا موقع مل جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی اپنی پکڑ میں نرمی اور غیر معمولی مغفرت کا سلوک فرماتا ہے۔پس اگر یہ وہی نشان ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا تو اس میں جماعت کے لئے بھی اور قوم کے لئے بھی ایک بہت ہی خوشخبری کا پہلو ہے کہ قوم کے لئے ابھی نجات کی راہ باقی ہے۔مہیب خطرات کا ایک نمونہ دکھا دیا گیا ہے لیکن اگر قوم نے