خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 43

خطبات طاہر جلدم 43 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء نہیں پہنچائے گا۔وانتظر اور تُو انتظار کر اِنَّهُمْ مُنتَظِرُونَ وہ بھی انتظار کر رہے ہیں وہ بھی کچھ دیکھنا چاہتے ہیں اب انتظار کا حکم تو فرما دیا لیکن کتنا انتظار کر ، کب تک دیکھ ، کب وہ وقت آئے گا کہ یہ صبح طلوع ہوگی اس کے متعلق ذکر نہیں فرمایا کہ کب ہوگا۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جماعت احمد یہ بھی اس وقت ایسے ہی دور سے گذر رہی ہے کہ انتظار ہی کا ہمیں حکم ہے اور انتظار ہم کرتے چلے جائیں گے لیکن جہاں تک خوشخبریوں کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسلسل جاری ہیں اور تمام دنیا میں حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے انطباق رکھتی ہوئی، ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہوئی رؤیا اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے جماعت کو اور حیرت کے ساتھ انسان دیکھتا ہے کہ بعض مہینوں میں ایک ہی مضمون کی رؤیا مشرقی ممالک میں بھی دکھائی جارہی ہے اور مغربی ممالک میں بھی دکھائی جارہی ہیں اور ایسی زبان میں دکھائی جاتی ہیں جن کو دیکھنے والا سمجھ بھی نہیں رہا ہوتا اور یہ جو سلسلہ ہے یہ ایک خاص اپنے اندراندرونی حکمت اور منطق رکھتا ہے اس کی اپنی ایک زبان ہے اور جب وہ اکٹھی ہوتی ہیں ساری دنیا سے رویا اور بعض کشوف اور بعض الہامات تو ایک تصویر نکھرتی چلی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ہی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بار بار اللہ تعالیٰ نے مبشرات بھی عطا فرمائیں ، کشوف دکھائے ، الہا ما تستی دلائی اس لئے میں گذشتہ چند ماہ سے جماعت کو بار بار خوشخبریاں دے رہا ہوں کہ تم بالکل مطمئن رہو، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نشان دکھائے گا اور تمہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا، یہ بات تو دنیا میں کوئی ٹال ہی نہیں سکتا، یہ تقدیر تو بدل سکتی ہی نہیں کہ جماعت احمدیہ غالب آئے گی اس لئے کوئی غم اور کوئی فکر نہیں۔ان امور کو دیکھ کر بعض لوگ پریشان ہو گئے ہیں اور بعضوں نے مجھے کچھ پیار سے محبت سے اور ادب کے ساتھ سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے کہ تم فتح کی باتیں کر رہے ہو، خوشخبریاں دے رہے ہو جماعت کو پتہ نہیں وہاں کیا حالات ہیں۔چنانچہ بعض ان میں سے یہ کہہ رہے تھے مجھے اور انہوں نے حالات کا ایک اندازہ لگایا ہے دنیا کے لحاظ سے وہ کہتے ہیں کہ دیکھو پاکستان میں ریفرنڈم کے نام پر جو کچھ بھی ہوا بہر حال پانچ سال کے لئے ایک ضمانت مل گئی ہے اور ہم اپنی قوم کو جانتے ہیں ، ہم اپنی قوم کی نفسیات سے باخبر ہیں اس وقت ان کی اخلاقی حالت مسلسل استبداد کے نیچے رہ کر، مسلسل آمروں کے نیچے وقت گزار کر ایسی گر چکی ہے کہ ان میں طاقت نہیں رہی ہے مقابلہ کی اور وہ