خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 491

خطبات طاہر جلدم 491 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء ساحلی علاقوں سے آبادی کا انخلاء ہوا خصوصا ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی سے جو بہت دور دور تک پھیلی پڑی ہے اس کے کئی Phases ہیں، اس میں لاکھوں آدمیوں کا انخلاء کروایا گیا۔ڈیفنس کی نصف سے زائد آبادی اپنے مکان خالی کر گئی اور اتنی افراتفری میں یہ واقعہ ہوا کہ کسی کو اپنا سامان لے جانے کی بھی ہوش نہ تھی۔چنانچہ اس اطلاع کے بعد صبح جب ایک احمدی گھرانے سے ٹیلی فون پر میرا رابطہ قائم ہوا تو انہوں نے اس طوفان کا نقشہ کھینچنے کے لئے ایک بڑا دلچسپ واقعہ بتایا۔انہوں نے کہا ہمیں جب اطلاع ملی کہ فوراً نکلو تو اس اطلاع میں اتنی Panic تھی کہ ہم بغیر کسی چیز کے باہر نکلے تو میری چھوٹی بچی نے کہا : حضرت صاحب کے خط رہ گئے ہیں وہ تو لیتے جائیں۔کہتے ہیں کہ ہم واپس دوڑے اور وہ خط لے لئے کہ اور کچھ لے جاسکیں یا نہ لے جاسکیں یہ خط محفوظ رہ جائیں۔یہ وہ کیفیت تھی جس میں آبادی کا انخلاء عمل میں آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور پیشتر اس کے کہ یہ طوفان کراچی میں دور دور تک پھیلے ہوئے ساحلی علاقوں میں تباہی مچاتا اللہ تعالیٰ نے اس کا رخ پھیر دیا اور یہ بلاٹل گئی۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اس واقعہ کو ایک غیر معمولی اہمیت بھی حاصل ہوگئی۔کراچی کی جماعت خاص طور پر اس لئے بھی پریشان تھی کہ اگر چہ آج یہاں جمعہ کا دن رمضان کی گیارہویں تاریخ ہے لیکن پاکستان میں جمعہ کا دن آج رمضان کی دسویں تاریخ ہے اور اس سے پہلے ایک خطبہ میں جو میں نے گلاسکو میں دیا تھا۔اس میں بھی میں نے جماعت کو مطلع کیا تھا کہ بعض ایسی رؤیا معلوم ہوتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے Friday The 10th کا جو کشفی نظارہ دکھایا تھا اس کا تعلق بعید نہیں کہ چاند کی راتوں سے ہو۔چنانچہ اس خطبہ کے بعد اس عرصہ میں پاکستان سے ایک دوست ڈاکٹر طارق صاحب نے ایک اور عجیب اور بڑی دلچسپ رویا لکھ کر بھجوائی۔اس کا بھی اس سے تعلق معلوم ہوتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک رات میں بہت ہی پریشان ہوا اور خدا کے حضور بہت رویا اور دعائیں کیں کہ ابتلاء کے یہ دن کب کٹیں گے اور کیا ہونا ہے کچھ تو پتہ لگے۔کہتے ہیں میں نے اس رات رویا میں جو نقشہ دیکھا ہے اس کی مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ ہے کیا؟ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو رویا کی تعبیریں بتا دیتا ہے اور آپ کا تعلق ہے جماعت کے معاملات سے اس لئے میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔چنانچہ وہ رویا یہ تھی کہ ایک کاغذ پر ایک طرف ایک