خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 490

خطبات طاہر جلدم 490 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء باکستوں سے بھی پہلے جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور بہت دور دور کی خبریں اس نے پہلے سے دلوں کو سہارا دینے کی خاطر دے رکھی تھیں اس لئے یہ لوگ تمسخر کرتے رہیں، مذاق اڑاتے رہیں کہ وعدے کب پورے ہوں گے اور کیسے پورے ہوں گے۔تمسخر اور استہزاء ان کی زندگی کا حصہ ہے اور ان کے مقدر کی باتیں ہیں مگر ہم تو ہر روز پورے ہوتے ہوئے وعدوں میں جی رہے ہیں، وہی ہماری سانسیں ہیں اور وہی ہماری بقا کا پانی ہے اس لئے ہماری جماعت کے جو حالات ہیں وہ ان لوگوں کے تصور میں بھی نہیں آسکتے کہ ہم کس طرح زندہ ہیں اور کیوں زندہ ہیں۔ازاں بعد میرا خیال تھا کہ میں ملک کو ایک عظیم خطرہ کی طرف متوجہ کروں اور یہ ملائیت کا خطرہ ہے جوملکی زندگی کے تقریباً ہر گوشے پر پنجے گاڑ چکا ہے اور اس وقت ملکی زندگی کی شاہ رگ اس کے پنجوں میں آچکی ہے۔صرف ایک ملک میں یہ واقعہ رونما نہیں ہورہا بلکہ اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے ایک سوچی سمجھی سازش کے مطابق ملکی زندگی پر ملائیت کو مسلط کروایا جا رہا ہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے میں نے سوچا کہ میں اہل وطن کو اس خطرہ سے متنبہ کروں لیکن آج صبح ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے پیش نظر میں اس مضمون کو سر دست آئندہ خطبہ کے لئے اٹھا رکھتا ہوں اور آج رونما ہونے والے واقعہ کے متعلق مطلع کرتا ہوں۔آج صبح تہجد کے وقت فون کی گھنٹی بجی تو پتہ چلا کہ کراچی سے فوری ٹیلی فون ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ کراچی میں محکمہ موسمیات (جس میں بین الاقوامی ماہرین موسمیات بھی شامل ہیں) کی طرف سے ایک ایسی تنبیہ کی گئی ہے جو عام طور پر پاکستان کے جغرافیائی حالات میں نہیں کی جاتی اور اس لحاظ سے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں کراچی کے ساحل کی طرف ایک نہایت ہی خوفناک سمندری طوفان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جمعہ کے دن صبح دس بجے وہ کراچی کے ساحلی علاقے کو Hit کرے گا۔اس قسم کے سمندری طوفان مشرقی بنگال میں تو آتے رہتے ہیں اور وہ لوگ ان سے واقف بھی ہیں۔ایسے طوفانوں میں لکھوکھا جانیں ضائع اور اربوں کی جائیدادیں تلف ہوتی رہتی ہیں لیکن کراچی کے ساحلی علاقوں کے لئے یہ ایک بالکل اجنبی اور انوکھا واقعہ تھا اس لئے تمام نیوی کو Alert (الرٹ ) کر دیا گیا شہری دفاع کے تمام ادارے اور رضا کار اس طرف متوجہ ہوئے ، رات کے پچھلے حصہ اور صبح کے پہلے حصہ میں