خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 476

خطبات طاہر جلدم 476 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء مشکل چیز ہوتی ہے اور بعض دفعہ محض ایک نسبتی مضمون ہوتا ہے حقیقت میں وہ چیز مشکل نہیں ہوتی۔اور وہ نسبتی مضمون بعض دفعہ زاویہ بدلنے سے نیا رنگ اختیار کر لیتا ہے ، بعض دفعہ تجربے کے بعد کچھ عرصے کے بعد ایک نیا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔چنانچہ وہ چیزیں جنہیں آپ شروع میں مشکل سمجھتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد آپ جب اس مذاق کو Acquire کر لیتے ہیں۔اس سے لطف اٹھانے کے طریقے سیکھ لیتے ہیں تو آپ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ کیوں آپ اس چیز کو مشکل سمجھا کرتے تھے اور باتوں کو تو چھوڑئے یہ مضمون ساری زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔ایک بچے کے چلنے ہی کو لے لیجئے۔کتنا مشکل مضمون ہے اس کے لئے جب وہ شروع میں ٹھوکریں کھا تا گر تا کئی قسم کے آلات کا سہار الیتا کبھی بڑوں کی انگلیاں پکڑتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ میں دو قدم اٹھا سکوں لیکن نہیں اٹھائے جاتے ، جہاں اس سہارے کو چھوڑتا ہے وہاں گر جاتا ہے۔لیکن جب کچھ عرصہ کے بعد وہ ان مقامات سے آگے بڑھ جاتا ہے تو چلنا اور آہستہ چلنا اس کے لئے ایک نعمت اور راحت بن جاتا ہے اور لمبا عرصہ اگر اسے بستر پر لیٹنے پر مجبور ہونا پڑے تو وہ دن حسرت اور دکھ سے یاد کرتا ہے کہ میں چلا کرتا تھا۔حالانکہ آغاز میں اگر آپ دیکھیں تو لیٹنا اس کی راحت تھا اور چلنا اس کے لئے عذاب تھا اور تھوڑے ہی عرصہ میں لیٹنا اس کے لئے عذاب بن گیا اور چلنا اس کے لئے راحت ہو گیا۔اسی طرح مختلف مذاق ہیں کھانوں کے ان کا ذوق شوق ہے۔حالات کے بدلنے سے، تربیت کے بدلنے سے تھوڑی دیر کے بعد جب انسان ہر طرف نظر دوڑاتا ہے تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ حقیقت اپنی ذات میں ایک گھومنے والی چیز ہے جو کہیں ایک جگہ ایک مقام پر Fix نہیں کی جاسکتی کھڑی نہیں کی جاسکتی۔زاویہ نگاہ بدلتا ہے آپ کی رفتار میں بدلتی ہیں، آپ کے رخ بدلتے ہیں اور حقیقتیں بھی بدلتی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ انسان ہر اس چیز میں اعتماد کھو دیتا ہے جسے پہلے وہ یقین کے ساتھ اچھی یا بری سمجھا کرتا تھا۔ایسی صورت میں صرف ایک ہی ذات ہے جو بغیر نسبت کے دیکھنے والی ذات ہے، جو بہتر جان سکتی ہے کہ کس جگہ آپ کا فائدہ ہے اور کس جگہ آپ کا نقصان ہے۔اس کے سوا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ جو تمام زندگی نسبتوں میں پرورش پانے والے وجود ہیں نسبتی حیثیتوں سے فیصلہ دینے والے وجود ہیں آپ معلوم کر سکیں کہ کیا آپ کے لئے بہتر ہے اور کیا آپ کے لئے