خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 40

خطبات طاہر جلدم 40 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء لیکن یہ اس وجہ سے تو نہیں ہم فضل نازل فرمایا کرتے ، روحانی زندگی عطا کرنے کیلئے پانی لاتے ہیں کہ وہ صرف روٹی کھالیں اور کھا کے مر جائیں ان کا نور بصیرت تیز کرنے کی خاطر یہ واقعہ رونما ہوتا ہے۔لیکن عجیب بد بخت اور بدقسمت لوگ ہوتے ہیں جو فائدے تو اُٹھا ر ہے ہیں مگر انکا نور بصیرت صیقل نہیں ہوتا وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے ، کیوں نہیں دیکھتے وہ کیوں سمجھتے نہیں کہ کیا رونما ہورہا ہے ان کے سامنے۔جواب میں وہ یہ کہتے ہیں جب ان کو متوجہ کیا جاتا ہے وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ اب اس آیت نے اس مضمون کو پوری طرح کھول دیا کہ ہم تمام ذکر بظاہر دنیا کی باتوں کا کر رہے تھے یعنی پانی کا آنا اور کھیتیوں کا نکلنا لیکن دراصل روحانی باتیں ہو رہی تھیں۔اور اُس زمانہ کے جو انعام تھے وہ زیادہ عقل رکھتے تھے اس لحاظ سے کیونکہ وہ بات سمجھ گئے فوراً۔اس زمانہ کے انعام کی تو بالکل ہی عقلیں ماری گئیں ہیں بیچاروں کی ان کو ان تمثیلات کی سمجھ ہی کچھ نہیں آتی لیکن آنحضرت ﷺ کے جو مخاطبین تھے وہ فورا سمجھ گئے کہ کیا بات ہورہی ہے۔انہوں نے کہا یہ تو اپنی فتح کی باتیں کر رہا ہے، یہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ میرے منکرین ہلاک ہو جائیں گے اور جو زندہ رہے گا مجھ سے زندگی پائے گا ، اُس پانی سے فیض یاب ہوگا جو مجھ پر اتر رہا ہے آسمان سے۔تو فوراً وہ پوچھتے ہیں ان آیات کے جواب میں مَتَى هُذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ کب ہوگی وہ فتح کب وہ دن آئے گا۔اگر تم سچے ہوتو بتاؤ پھر۔اس کے جواب میں قرآن کریم فتح کا کوئی دن معین نہیں فرماتا ، بالکل نہیں بتا تا کہ فلاں تاریخ کو فتح ہو جائے گی یا اتنے سال کے بعد فتح ہو جائے گی یا اتنے مہینے کے بعد فتح ہو جائے گی۔پوچھ تو وہ یہ رہے تھے کہ وَيَقُولُونَ مَتَى هُذَا الفَتح جواب ان کو یہ ملتا ہے قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِيْمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ) کہ اسے محمد اعو تو ان سے یہ کہہ دے کہ تم کس دن کے متعلق پوچھ رہے ہو تمہارا اس سے کیا تعلق کیونکہ جس دن فتح کا وقت آئے گا اس دن وہ لوگ جو اس سے پہلے انکار کر چکے ہیں ان کو ان کا ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ اور کچھ ان میں سے ایسے ہوں گے جو پکڑے جائیں گے اور ایمان لائیں گے بھی تو بچ نہیں سکیں گے اس ایمان کے نتیجہ میں کیونکہ وہ اپنی شرارتوں۔میں اس سے پہلے حد سے بڑھ چکے ہوں گے۔تو فرمایا تمہیں تو یہ پوچھنے کا حق ہی نہیں کہ فتح کب ہوگی ، جہاں تک تمہارا تعلق ہے تمہیں وہ دن کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔