خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 459

خطبات طاہر جلدم 459 خطبه جمعه ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء مولوی اشرف علی صاحب تھانوی جو آج کل کے دیو بندیوں کے بہت بڑے بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔ان کے متعلق ماہنامہ البلاغ کراچی بابت ماہ جولائی ۱۹۷۶ء صفحہ ۵۹ پر لکھا ہے کہ انہوں نے فرمایا: " آج کل جمہوریت کو شخصیت پر ترجیح دی جارہی ہے۔(۷۴ء کا یہ جمہوری فیصلہ ہی تھانا جس کو اچھالا جا رہا ہے ) اور کہتے ہیں کہ جس طرف کثرت ہو وہ سواداعظم ہے۔اسی زمانہ میں میرے ایک دوست نے اس کے متعلق ایک عجیب اور لطیف بات بیان کی تھی۔( اور واقعہ وہ بات اتنی لطیف ہے کہ اگر کسی مولوی صاحب کے ذہن میں آجاتی تو بڑا تعجب ہوتا ان کے ایک دوست کو سمجھ آئی ہے لیکن ان مولوی صاحب میں یہ سعادت تھی کہ ان کی سچی بات کو انہوں نے پسند کیا اور پھر اس کو اپنا کر آگے پیش کیا۔بات واقعی بہت لطیف ہے کہتے ہیں کہ جو میرے دوست نے عجیب بات بیان کی وہ یہ تھی کہ ) اگر سواد اعظم کے معنی یہ بھی مان لئے جائیں کہ جس طرف زیادہ ہوں تو ہر زمانہ کے سواد اعظم مراد نہیں بلکہ خیر القرون کا زمانہ مراد ہے۔“ یعنی آنحضرت ﷺ نے جس سواد اعظم کا ذکر فرمایا ہے۔اگر اس کے لفظی معنی مان لئے جائیں کہ سواد اعظم سے مرادا کثریت ہی ہے تو کہتے ہیں کہ میرے دوست نے بتایا کہ اس سے مراد پھر بھی یہ نہیں ہے کہ ہر زمانہ کا سواداعظم یا ہر زمانہ کی اکثریت بلکہ خیر القرون مراد ہے یعنی وہ زمانہ جو آنحضرت ﷺ کے اپنے ارشادات کے مطابق نیکی کا زمانہ تھا، سچائی کا زمانہ تھا، روشنی کا زمانہ تھا جس کو حضور نے خود خیر القرون قرار دیا۔یعنی آپ کا زمانہ۔پھر آپ کے بعد آنے والوں کی نسل پھر اس سے اگلے آنے والوں کی نسل۔یہ تین زمانے ہیں جو روشنی کے زمانے ہیں اور خیر القرون کہلاتے ہیں۔اس کے بعد اندھیرا پھیلنا شروع ہو جائے گا۔یہ حوالہ آگے چلتا ہے لکھا ہے: ”جو غلبہ خیر کا وقت تھا ان لوگوں میں سے جس طرف مجمع کثیر ہو وہ مراد ہے نہ کہ ثـم يـفـشـو الكذب کا زمانہ یہ جملہ ہی بتارہا ہے کہ خیر القرون کے بعد شر میں کثرت ہوگی۔“