خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 39

خطبات طاہر جلدم 39 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء کو بھی روشن کیا ہے، جس نے مشرق کو بھی روشن کیا اور مغرب کو بھی روشن کیا۔تو فرمایا اَنْعَامُهُم ان کے انعام بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی وہ جانور جو یہ عقل نہیں رکھتے کہ وہ خدا کے پیغام کو سمجھ سکیں جونو رنبوت سے استفادہ کر سکیں براہ راست۔یہ ایک ایسی رحمت ہے اللہ تعالیٰ کی کہ اس کے نتیجہ میں عام روشنی پھیل جاتی ہے عام زندگی بھی ایک عطا ہوتی ہے جس سے انسان تو انسان انعام بھی فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔ایک تو یہ مضمون نظر آتا ہے۔دوسرے انعام میں بدترین انعام وہ ہوتے ہیں جو سمجھتے نہیں ، دیکھتے نہیں اور مخالفت میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے دوسری آیت میں واضح طور پر ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ انعام بلکہ ان سے بھی اصل ہیں چنانچہ یہ انعام بھی فائدہ اٹھا جاتے ہیں اور ان کو بھی رزق ملتا ہے۔اگر چہ بظاہر انکار کے نتیجہ میں رزق مل رہا ہوتا ہے لیکن مادی رزق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ ان سے بھی کوئی کنجوسی نہیں کرتا۔چنانچہ آپ یہ دیکھیں گے کہ وہ مولوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے پہلے صرف گاؤں میں بٹنے والی روٹیوں پر پلا کرتے تھے اور جن کو گھر میں جو بچ جاتا تھا وہ تقسیم کیا جاتا تھا بلکہ دروازے کھٹکھٹا کھٹکھٹا کے وہ اپنی روٹی مانگا کرتے تھے کہ کچھ بچا ہوا سالن ہو تو دے دو ایک طرف مغرب کے وقت فقیروں کی آواز میں آیا کرتی تھیں کہ راہ مولا کچھ دے دو اور دوسری طرف مولوی صاحب بیچارے یا اُن کے بچے جوان سے پڑھا کرتے تھے وہ دروازے کھٹکھٹا رہے ہوتے تھے۔اور ایک طرف یہ حال ہوا کہ مولوی کے رزق کا دروازہ احمدیت کے انکار میں گھل گیا جتنی بڑی مخالفت کرے اتنے زیادہ اس کو پیسے نصیب ہوں۔چنانچہ آج بھی جو روٹیاں تقسیم ہورہی ہیں بے شمار یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خیرات ہے۔أَنْعَامُهُم قرآن کریم منکرین کو انعام فرما رہا ہے خود اور فرماتا ہے کہ جب ہم پانی بھیجتے ہیں رحمت کا تو صرف ماننے والے یعنی انسان ہی فائدہ نہیں اٹھاتے منکرین بھی اس سے استفادہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کو بھی فیض پہنچ جاتا ہے۔عجیب شان ہے خدا تعالیٰ کی رحمت کی اگر چہ عارضی ہے اس کے بعد شدید نقصان بھی پہنچتے ہیں یعنی عقبی کے لحاظ سے۔لیکن جہاں تک دنیا کا Phenomenon ہے اس میں خدا پھر یہ تفریق نہیں کرتا۔چنانچہ کئی پہلوؤں سے اس آیت کو ہم بڑی شان کے ساتھ اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے اَفَلَا يُبْصِرُونَ