خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد ۴ 442 خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۸۵ء ابتغاء فضل دنیا کے معنوں میں بھی مراد ہے اس لئے میں یہ معنی لے رہا ہوں کہ دنیا کے کاموں میں خدا کا فضل ڈھونڈ ولیکن کثرت کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس کثرت کے ساتھ کہ تمہاری دنیا کی جستجو پر غالب آجائے ۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم الشان فتوحات عطا فرمائے گا۔ اس وقت بھی یہی ہو رہا ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ دونوں قسم کے وقف پورے کر رہی ہے ۔ ایسے بھی ہزاروں لوگ ہیں جنہوں نے سب کام چھوڑ کر اپنے آپ کو کلیۂ خدمت دین کے لئے پیش کر دیا ہے اور اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ اگر جماعت ان کو چپڑاسی لگاتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے بھی رحمت اور فضل کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔ اگر جماعت انہیں مبلغ لگاتی ہے تو اس پر بھی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، اگر ماتحت لگاتی ہے تو تب بھی شکر کرتے ہیں ، اگر حاکم اور افسر بناتی ہے تب بھی شکر کرتے ہیں، شکر اس بات پر نہیں کرتے کہ انہیں کیا بنایا گیا ہے شکر اس بات پر کرتے ہیں کہ ہر حالت میں ان کو قبول کر لیا گیا ہے اور انہیں اس فوج میں داخل کر لیا گیا جس کا سورہ جمعہ میں ذکر ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر خدا کے حضور حاضر ہو جاؤ اور ان میں لکھوکھہا ایسے بھی ہیں جیسا کہ آپ میں سے اکثریت یہاں ایسی ہے جو اپنے دنیا کے کاموں پر نکلے ہوئے ہیں۔ اپنے وطن سے دور سکاٹ لینڈ میں کبھی آپ بچپن میں سوچ بھی نہیں سکتے کہ اللہ کے فضلوں کی تلاش میں اتنی دور نکل جائیں گے لیکن خدا نے انتظام کر دیا۔ آپ جیسے کروڑوں اور لوگ ہیں جو اپنے اپنے وطنوں کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے ہیں لیکن ان میں اور آپ میں کتنا فرق ہے۔ وہ دنیا کمانے کے لئے آئے اور دنیا کما کر واپس چلے جاتے ہیں ۔ پھر آپ بظاہر دنیا کمانے کے لئے آئے ہیں مگر چونکہ آپ نے ہر جگہ ذکر الہی کو غالب رکھا ہوا ہے اور ہر جگہ آپ خود بھی ذکر الہی کرتے ہیں اور اس کو آگے پھیلاتے بھی جاتے ہیں ذکر الہی خود بھی کرتے ہیں اور ذکر الہی کر نیوالے بھی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں اور وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا کے اس مفہوم کو آپ ادا کر رہے ہیں۔ پس اس قسم کے بھی واقفین ہیں اور یہی نظام ہے جسکی بنیا د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے رکھی گئی تھی اور جس کے نتیجہ میں سب دنیا نے فتح ہونا ہے۔ پس یہ جو اشارہ ہے کہ دسویں جمعہ اور دس یعنی Friday کے معنی اگر سورۂ جمعہ کے لئے جائیں اور 10th سے مراد