خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 433

خطبات طاہر جلدم 433 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء نئی رونق آجائے گی ، اس عمارت کا چہرہ پہچانا نہیں جائے گا، اس میں نور بس جائے گا، لوگ آئیں گے اور اس کے نور سے استفادہ کریں گے۔یہ آپ ہی کے دل کا نور ہے جس نے اس عمارت میں منتقل ہونا ہے، یہ آپ ہی کی روحانی زندگی ہے جس نے اس عمارت کو زندگی بخشنی ہے اور جب آپ ایسا کریں گے تو یہ عمارت پھر آپ کو ان سب نیکیوں کا بدلہ دے گی۔اس عمارت کا فیض پھر آپ کو بھی پہنچے گا۔وہ نور جو آپ اس کو بخشیں گے، وہ زندگی جو آپ اس کو عطا کریں گے وہ ساری جماعتی زندگی اور سارے جماعتی نور کی شکل میں پھر ابھرے گی۔یہ ہے الہی نظام جس کے ذریعہ چیزیں ایک دوسرے سے با ہمی قوت پا جاتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔پس آج ہم دعا کے ساتھ اس عمارت کا افتتاح کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمارت کو ایک مذہبی، روحانی عمارت میں تبدیل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس عمارت کے سارے گناہ جو ماضی میں یہاں ہو چکے یا وہ ساری بدکاریاں یا خدا تعالیٰ سے دوری کی باتیں جن کا کبھی اس عمارت سے تعلق رہا ہے، وہ مٹے ہوئے حرف کی طرح مٹ جائیں اور کوئی نشان ان کا باقی نہ رہے ،اس عمارت پر نئی عبادتیں مرتسم ہوں۔اللہ اور محمد کے نام لکھے جائیں، اللہ اور محمد کا ذکر اس میں چلے یہاں تک کہ اس عمارت کو بالکل ایک نئی زندگی عطا ہو جائے۔پس ان ارادوں کے ساتھ ہم اس عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ یہ افتتاح بظاہر معمولی ہے لیکن فی الحقیقت ہم بہت بڑے عزائم کے ساتھ ، بہت بڑے نیک ارادوں کے ساتھ اس افتتاح کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک ارادے کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ جب ہم نے عمارت لی تو آپ میں سے بعض دوست کہہ رہے تھے کہ اتنی بڑی عمارت کو ہم نے کیا کرنا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی بچے نے لفافہ میں دو گولیاں ڈالی ہوں اور لفافہ اتنا بڑا ہو کہ اس میں دس کلو گولیاں پڑسکتی ہوں خلخل کرتا خالی کمرہ اور اس میں دو چار آدمی بیٹھے ہوں یہ منظر بعض لوگوں کو اچھا نظر نہیں آیا اس لئے انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عمارت کیا کرنی ہے، یہ تو بری لگے گی ، ہم دو چار آدمی ہیں اتنی بڑی عمارت کیا کرتے پھریں گے۔چنانچہ میں نے ان کو ( یعنی جس نے مجھے بتایا میں نے ) جواب دیا کہ اگر دو چار ہیں تو خدا