خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 432

خطبات طاہر جلدم 432 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء بلند ارادوں اور بلند ہمتوں کے لامتناہی مضامین اکٹھے کر دو اپنے اختصار میں بھی لا متناہی ترقیات کے بیج بو دو۔بلند ارادے لے کر ایک چھوٹی سی اینٹ کو بنیاد میں رکھو اور فیصلے یہ کرو کہ اس اینٹ سے ہم نے اتنے عظیم الشان محلات تعمیر کر دینے ہیں کہ تمام دنیا کی قو میں جو بھی اس میں پناہ لیں تو وہ ان کے لئے چھوٹے نہ ہو سکیں۔ایسے افتتاح کرو جیسے محمد مصطفی ﷺ نے افتتاح فرمائے ، ایسے افتتاح کرو جیسے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے افتتاح فرمائے اور پھر اللہ پر توکل رکھو پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ ان افتتاحات میں کتنی برکتیں نازل فرماتا ہے، کتنی برکتیں رکھ دیتا ہے۔حضرت مصلح موعود نے بھی اسی قسم کے افتتاح کا تصور باندھا جب یہ شعر کہا: ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کر دوں انجام خدا جانے ( کلام محمود: صفحه ۱۲۰) یہ وہی جنگیں ہیں جن کے میدان آج سکاٹ لینڈ میں بھی کھلے ہوئے ہیں۔یہ وہی درخت ہے جس کا بیج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بویا تھا اور دنیا کو یہ خبر دی تھی کہ اس کی شاخیں تمام دنیا پر پھیلیں گی اور تمام دنیا اس کے رحمت والے سایہ سے فیض پائے گی۔آج اس کی ایک شاخ سکاٹ لینڈ میں بھی پہنچی ہوئی ہے اور اسی کو مزید طاقت دینے کے لئے ہم یہ سارے کاروبار کر رہے ہیں اس لئے بظاہر یہ ایک معمولی سا افتتاح ہے، ایک بوسیدہ اور پرانی عمارت کا افتتاح ہے جو دنیا کی نظر میں اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے اور اتنی بوسیدہ ہو گئی کہ ہر نئی بار اس کی قیمت پہلے سے کم پڑتی رہی گویا وہ اپنی عمر کے کنارے پر پہنچی ہوئی عمارت ہے مگر یہ عجیب دیوانی جماعت ہے کہ اس کا آج افتتاح کر رہی ہے لیکن دنیا کی نظر میں دیوانی ہے خدا کی نظر میں نہیں۔ہم نے اس عمارت میں نئی زندگی ڈالنی ہے۔اس عمارت کے تن مردہ کوئی روح بخشنی ہے۔ہم نے اس عمارت میں ذکر الہی کر کے اس کے بھاگ جگانے ہیں، اسے نئے نصیب عطا کرنے ہیں۔یہ ہے وہ افتتاح جو ہم آج کر رہے ہیں اور اگر آپ اس روح کے ساتھ اس کے درودیوار پر محبت الہی کے نقش کر دیں گے۔اگر آپ ایسی روح اور انہی نیک ارادوں کے ساتھ ذکر اور درود کے ساتھ اس عمارت کی فضاؤں کو بھر دیں گے تو اس کی ساری نحوستیں اور ساری بوسیدگیاں ہمیشہ کے لئے اس کو چھوڑ دیں گی اس عمارت پر