خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 431

خطبات طاہر جلدم 431 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء آنحضرت ﷺ جنگ احزاب کے موقع پر خندق کھود نے کے دوران جب ایک پتھر توڑ رہے تھے تو اس کی چنگاریوں میں آپ نے کیا دیکھا تھا۔کہیں یمن کے محلات کی چابیاں آپ کے ہاتھ میں دی گئیں، تو کہیں قیصر و کسری کے خزانے آپکو دکھائی دیئے اور ہر نظارے کے ساتھ آپ اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز بلند کرتے تھے۔اس وقت دیکھنے والے تو بہر حال مومن تھے۔وہ جانتے کہ یہ ساری باتیں کچی ہیں اور لاز مانچی ہوں گی لیکن اگر اس وقت وہاں کوئی کافر جو اپنی بدقسمتی کی وجہ آپ پر ایمان نہ لاسکتا تھا) موجود ہوتا تو وہ یہ نظارہ دیکھ کر ہنستا ہوا اپنے گھر واپس لوٹ آتا اور کہتا کہ اس خص کا بھی عجیب حال ہے پیٹ پر فاقے کی وجہ سے دو پھر بندھے ہوئے ہیں۔دو وقت کی روٹی کیا چوبیں چوبیس گھنٹے کا فاقہ اس شخص پر پڑ رہا ہے اور اس کے غلام ایک ایک پتھر باندھ کر پھر رہے ہیں اور مزدوری کر رہے ہیں اور جب وہ شکایات کرتے تو اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھاتا ہے اور کہتا کہ دیکھو میرے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے ہیں اور باتیں یہ کر رہا ہے کہ خدا کی قسم قیصر کی حکومت بھی میرے پاؤں تلے آئے گی اور کسریٰ کی حکومت بھی میرے پاؤں تلے آئے گی اور یمن کے محلات کی چابیاں بھی خدا میرے سپرد کر دے گا۔تو یہ بھی اس وقت ایک افتتاح ہورہا تھا۔دنیا کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ ساری باتیں سچی ہو کر رہیں گی۔پس مذہبی دنیا میں جن افتتاحات کا تعلق اللہ کی ذات اور اس کے تو کل پر ہوا کرتا ہے۔جن کا تعلق ان خوشخبریوں اور ان دعاؤں کے ساتھ ہے جو ایک نہ ختم ہونے والے خزانے کی صورت میں الله ہمارے لئے موجود ہیں، لامتناہی ترقیات کی وہ خوشخبریاں جو آنحضرت ﷺ کی زبان سے ہمیں عطا کی گئیں ان خوشخبریوں پر بنا رکھتے ہوئے جو افتتاح کیا جاتا ہے، ان دعاؤں کی بنا پر رکھتے ہوئے جو افتتاح کیا جاتا ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی حمد اللہ نے اپنی امت کے لئے پیچھے چھوڑی ہیں تو اس افتتاح کو عام دنیا کے افتتاح سے کوئی بھی نسبت نہیں۔جو افتتاح رضائے باری تعالیٰ کی خاطر ، اس کا نام بلند کرنے کے لئے اور اس کے ذکر کو وسیع کرنے کے لیے تمام دنیا میں اس کے ذکر کو پھیلانے کے لئے کیا جاتا ہے اس افتتاح کے ساتھ عام دنیا کے افتتاح کو نسبت ہو ہی کیا سکتی ہے۔پس آج ہم جس افتتاح کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں یہ اسی قسم کا افتتاح ہے، یہ ویسا ہی افتتاح ہے جیسے سورۃ فاتحہ نے ہمیں سکھلایا کہ یوں افتتاح ہونا چاہئے۔اپنے اختصار میں بھی