خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 429

خطبات طاہر جلد۴ 429 خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۸۵ء الله d لِكَلِمَتِ رَبِّی ان سے کہہ دے کہ اگر یہ سارے سمندر بھی ان کلمات کو لکھنے لگیں جو میرا رب نازل فرما رہا ہے یہاں تكلمت ربی کہہ کر اپنے رب کی نسبت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیر کر یہ معنی پیدا کر دیے کہ خدا کے کلمات تو لا متناہی ہیں لیکن وہ کلمات جو محمد کے رب کی طرف سے محمد پر نازل ہو رہے ہیں ان کا بھی یہ حال ہے کہ اگر سارے سمندر سیاہی بن جائیں اور ان کلمات کے مطالب لکھنے لگیں لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبی اے محمد " تو کہہ دے کہ سمندر خشک ہو جائیں گے مگر میرے رب کے کلمات خشک نہیں ہوں گے وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا خواہ ہم ان کی مدد کے لئے ویسے ہی سمندر لے آئیں تب بھی محمد کے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اور سمندر پر سمند رختم ہوتے چلے جائیں گے۔ موجود ہے۔ ہر صلى الله یہ وہ کلام ہے جس کا افتتاح سورۂ فاتحہ نے کیا ہے ۔ ایک چھوٹی سی سورت جو سات آیات پر مشتمل ہے جسے آپ دن میں بیسیوں مرتبہ نمازوں میں بھی اور اس کے علاوہ بھی پڑھتے ہیں اور ا یہ کلام پاک کا افتتاح کرنے والی والی سورہ ان معنوں میں میں بھی ہے کہ اس میں ہر مضمون کا بیج ہے۔ ہر عظیم الشان منزل کا ذکر ہے جس کے اوپر حضرت بر حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں نے قدم مارنے تھے۔ مستقبل کی تمام عظیم الشان خوشخبریاں اس میں موجود ہیں ۔ کوزے میں دریا بند کرنے کا محاورہ آپ نے سنا ہوا ہے لیکن حقیقت میں کوزے اور دریا کو آپس میں وہ نسبت نہیں ہے جو کلام الہی کی وسعتوں کو سات آیات سے اختصار اور طوالت کے لحاظ سے ہو سکتی ہے یعنی اس کے باوجودسورہ فاتحہ میں سب کچھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو علوم آسمان سے نازل فرمائے ان کی روشنی میں آپ نے سورہ فاتحہ کی جو تفسیر آپ نے لکھی اور پھر حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ملائکہ کے ذریعہ جو علوم عطا فرمائے اور سورۂ فاتحہ کے جو مضامین عطا کئے ان پر نظر کریں تو انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اس چھوٹی سی سورت میں کیا کیا باتیں موجود ہیں۔ پس اس سورت نے ہمیں افتتاح کا اصلوب بھی سکھا دیا ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ جب خدا