خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 415
خطبات طاہر جلدم 415 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء نظارے سے اسکی پنڈلیاں دیکھ لیں۔وہ خوبصورت پنڈلیوں والی تھی۔پھر حضرت سلیمان نے اپنی آنکھیں پھیر لیں۔(تفسیر نسفی سورۃ نمل) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس مقام میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے قَالَ إِنَّهُ صَرْحُ مُّمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ (النمل: ۴۵) یعنی اس نبی نے کہا کہ اے بلقیس تو کیوں دھوکا کھاتی ہے۔یہ تو شیش محل کے شیشے ہیں جو اوپر کی سطح پر بطور فرش کے لگائے گئے ہیں اور پانی جو بہت زور سے بہہ رہا ہے وہ تو ان شیشوں کے نیچے ہے نہ کہ یہ خود پانی ہیں۔تب وہ سمجھ گئی کہ میری مذہبی غلطی پر مجھے ہوشیار کیا گیا ہے اور میں نے فی الحقیقت جاہلیت کی راہ اختیار کر رکھی تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۴۱۱) ہاں ٹھیک ہے ہم اس قسم کے انبیاء کے قائل ہیں جن کا تصور اسی قرآن سے ملتا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوا تھا اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم میں غوطہ خوری کے بعد علوم و معرفت کے بے بہا موتیوں کو نکالا اور ہمارے سامنے پیش کیا۔اس قرآن کو چھوڑ کر ہم اور کس قرآن کے پیچھے جائیں گے۔الله اور روح المعانی میں علامہ آلوسی نے حضرت سلیمان کے بارہ میں مشہور ایک بیہودہ قصہ کو درج کر کے اس کی تردید کی ہے چنانچہ اس قصہ کے مطابق حضرت سلیمان کی انگوٹھی شیطان نے لے کر پھینک دی۔آپ کی بادشاہت جاتی رہی (کوئی ذکر کوئی اشارہ بھی قرآن کریم میں نہیں کہ بادشاہت جاتی رہی بلکہ یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ دعا کی تھی کہ ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہ ہو ) وہ شیطان جس کا نام آصف تھا آپ کے تخت پر بیٹھ گیا۔حضرت سلیمان کا اگلا قصہ سنئے یہاں تک تو انسان پھر بھی سن لیتا ہے گو بر داشت تو نہیں ہوتا مگر بہر حال جو گند آگے چل کر اچھالا گیا ہے اس کے مقابل پر یہ کچھ بھی نہیں چنانچہ لکھا ہے:۔یہ شیطان حضرت سلیمان کا روپ دھار کر آپ کی بیگمات سے حیض کے دوران مباشرت کرتا رہا۔( تفسیر روح المعانی سورۃ ص زير آيت ولقد فتنا سليمن)