خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 416

خطبات طاہر جلدم 416 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء یہ تو تھے وہ ظلم جود دیگر مقدس انبیاء پر بعض لوگوں نے نادانی سے تو ڑے یا بعض لوگوں نے دشمنوں کی باتوں میں آکر ظلم ڈھائے۔گو ہر شخص کے دل کا حال تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن جہاں تک ہم نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہیں ایسے لوگ جنہوں نے ایسے حوالے پیش کئے ہیں ان میں بعض بڑے خدا ترس لوگ بھی تھے۔بڑے بڑے علماء بھی تھے، انہوں نے ساری زندگیاں خدمت دین میں خرچ کیں۔مگر پھر بھی وہ اپنے زمانہ کے اثرات سے کلیہ بچ نہیں سکے۔نتیجہ یہ نکلا کہ کہیں یہودیوں کی روایات اسلامی لٹریچر میں شامل ہو گئیں، کہیں عیسائیوں کی روایات داخل ہو گئیں۔چونکہ یہ راوی اس طرح معصوم نہیں تھے جس طرح خدا کا نبی معصوم ہوتا ہے یعنی نبیوں کی طرح براہ راست اللہ کی طرف سے مہدی نہیں بنائے گئے تھے اس لئے جہاں بہت سی اچھی باتیں لکھیں وہاں اس قسم کی غلط باتیں بھی کہہ گئے۔ایسی غلطیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے مہدی کو بھیجنا تھا۔چنانچہ مہدی علیہ السلام کی بعثت کے عظیم مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد عقائد کی اصلاح تھا۔اللہ تعالیٰ نے جب مہدی علیہ السلام کو بھیجا تو یہی لوگ تھے جو اس پر طعن کرنے لگے اور اس کا تمسخر اڑانے لگے، اس کے متعلق جھوٹ بول بول کر اسے بد نام کرنے اور اس پر تہمتیں لگانے لگے۔سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان برگزیدہ ہستیوں پر بھی تہمتیں لگانے سے باز نہیں آتے جن کو وہ خدا کے پاک نبی تسلیم کرتے ہیں تو ایسے شخص کے متعلق کیا کچھ نہیں کہیں گے جن کو بزعم خویش جھوٹا اور مفتری گردانتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کی باتوں کا کچھ بھی اعتبار نہیں لیکن اب سب ظلموں سے بڑھ کر جو ظلم کیا گیا اور سب سے زیادہ سفا کا نہ حملے کئے گئے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر کئے گئے ہیں۔اب اس کو نادانی کہہ لیں یا لا علمی۔جہالت کہہ دیں یا جو چاہیں نام رکھ دیں۔بے شک کہہ دیں کہ بزرگ تھے مگر غلطی ہوگئی لیکن یہ غلطی ایسی ہے کہ آج بھی حضرت رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ باتیں سن کر دل کھولنے لگتا ہے۔تفسیر جلالین اور اسباب النزول للسیوطی میں زیر آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَاتَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ في أَمْنِيَّتِه ( الج: ۵۳) لکھا ہے: