خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 414

خطبات طاہر جلدم 414 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء تیری اس عظمت و ہمت پر جب حجلۂ عروسی میں تقرب یوسفی کا حصول ہوتا ہے تو زیور عصمت کے ساتھ ساتھ سرمایہ عذارت و بکارت سے بھی مزین ہیں (انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔زلیخا کی پاک دامنی کو آشکارا فرمایا۔گستاخی کی پٹی باندھ کر اگر ان باتوں سے منہ موڑ لیا جائے تو اور بات ہے ورنہ انصاف کی نگاہ اس سچائی کے انکار کی اجازت نہیں دیتی۔“ العطایا الاحمدیہ فی الفتاوی نعیمیه صفحه ۳۵۸ تا ۳۶۱) پس ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ہمارا قرآن، ہمارے نبی وہی ہیں جو تمہارے ہیں۔خدا کی قسم نہیں ہیں۔ہم تو اس قرآن کے قائل ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا تھا۔ہم تو ان رسولوں کے قائل ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں جن کا بڑی محبت کے ساتھ قرآن کریم بار بار ذکر کرتا ہے اور جن کی پاکیزگی کی گواہیاں دیتا ہے۔تم کن نبیوں کی طرف ہمیں کھینچ کر لے جار ہے ہو۔کوئی نبی ایسا باقی نہیں رہا جس کا قرآن میں ذکر ہو اور تم نے اس پر طعنہ زنی نہ کی ہو اور اس پر داغ نہ لگائے ہوں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق تفسیر النفی میں زیر آیت وَ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا (النمل : ۴۵ ) میں مؤلف نے بعض ایسی بے ہودہ روایات درج کر کے انکی تردید کی ہے چنانچہ ایک روایت یوں ہے کہ: جن نا پسند کرتے تھے کہ حضرت سلیمان ملکہ سبا سے شادی کر لیں۔(حضرت یوسف کے بارہ میں بھی شادی ہی کا قصہ ہے اور یہاں بھی یہی ہے ) کیونکہ وہ جذبہ تھی اور جنوں کو ڈر یہ تھا کہ ان کا بچہ جن وانس کی ذہانت کا مالک ہو جائے گا۔لہذا انہوں نے متنفر کرنے کے لئے حضرت سلیمان سے کہا کہ ملکہ سبا کی پنڈلیوں پر بہت بال ہیں اور اس کے پاؤں گدھے کے پاؤں کی طرح ہیں۔چنانچہ اس وہم کو دور کرنے کے لئے حضرت سلیمان نے عرش بنایا ( یعنی جومحل بنوایا گیا جس میں صاف شفاف شیشے کا فرش تھا اسے حضرت سلیمان سے نعوذ بالله من ذلک واقعۂ شادی کرنے کے لئے بنوایا تھا ) اور پانی کے