خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 411

خطبات طاہر جلد ۴ 411 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء طرح چھوڑ سکتے تھے چنانچہ ) آپ اس کو پکڑنے لگے وہ منڈیر پر جا بیٹھی (زبور ایک طرف رکھ دی ہے خدا کی حمد کے گیت سب بھول جاتے ہیں ، سونا نظر آگیا نعوذ باللہ من ذلک اور اس کے پیچھے دوڑ پڑے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو اتنی دولت اور سونا اور جواہرات عطا فرمائے تھے کہ اس سے بڑھ کر کسی اور نبی کو دولت عطا کرنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا مگر مفسرین کے نزدیک ان کی حرص کی حالت یہ تھی کہ نعوذ بالله من ذلک کبوتری کے پیچھے دوڑ پڑے وہ منڈیر پر جا بیٹھی ) آپ منڈیر پر چڑھے تو باغ میں ایک عورت کو نہاتے دیکھا ( تو کبوتری بھول گئی اور ) اس پر فریفتہ ہو گئے ۔ پھر اس کے خاوند کو محاذ جنگ میں بھجوا کر قتل کروادیا اور خود اس سے شادی کر لی اور اس سے قبل آپ کی ۹۹ بیویاں تھیں ۔ یہ ہیں ان کی تفسیریں اور یہ ہے ان کے انبیاء کے متعلق تصور نعوذ بالله من ذالک - آج دنیا کے ایک ذلیل بادشاہ کے متعلق بھی ایسی بات کہی جائے تو وہ مرنے مارنے پر تل جائے اور دنیا میں شور پڑ جائے ۔اگر وہ سچ ہو تو اس بات پر انقلاب آسکتے ہیں ۔ ایک بادشاہ کے متعلق ثابت ہو ہائے کہ اس نے از راہ ظلم و ستم اپنے ایک جرنیل کو مروا دیا اس لئے کہ اس کی بیوی پر قبضہ کرے یہ کوئی معمولی جرم نہیں ہوتا ۔ یہ ایک ادنی دہریہ کے لئے بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ خدا کے ایک نبی اور نبیوں میں بھی ایک ذی شان نبی جس کا قرآن کریم میں بڑے ہی پیار اور محبت سے ذکر ملتا ہے وہ ایک عورت پر نعوذ باللہ من ذالک فریفتہ ہو گئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت داؤد کی جس چیز کی تعریف کی گئی ہے اس میں ان لوگوں نے کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے اور خدا کا کوئی خوف نہیں کھایا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے لاعلمی میں ایسا کیا ہولیکن لاعلمی میں بھی حد سے بڑھ گئے ۔ جہاں جہاں بھی خدا تعالی اپنے نبیوں کو پاک ٹھہرا ہے وہیں ان کے متعلق جرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ اس قسم کی جتنی آیات ہیں جن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے مفسرین نے انبیاء علیہم السلام پر جرم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان میں در اصل عائد کردہ الزامات کی نفی ثابت ہوتی ہے نہ کہ اثبات جرم ۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس نبی کو جس صفت کے شہزادہ کے طور پر پیش کرتا ہے یہ مفسرین اسی صفت کی نفی کر دیتے ہیں اور تعریف کی بجائے ایک نہایت مکروہ اور گندا داغ لگا دیتے ہیں ۔ 19 اور اب حضرت یوسف علیہ السلام کے بارہ میں سنئے ۔ آپ نہایت پاک باز اور عفت مآب