خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 406
خطبات طاہر جلدم 406 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء (زمین) کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے پرے ایک پہاڑ ہے جسے قاف کہتے ہیں اور سماء دنیا اس پر قائم ہے۔( یعنی زمین کے چاروں طرف ایک سمندر ہے۔سمندر سے پرے ایک پہاڑ ہے اور وہ جو پہاڑ ہے اس کو قاف کہتے ہیں اور اس پر سماء دنیا قائم ہے ) پھر اس پہاڑ کے پیچھے اس زمین جیسی اور زمین پیدا کی ہے اور دوسرا آسمان اس پر قائم ہے۔اسی طرح سات زمینیں اور سات سمندر اور سات پہاڑ ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا قول ہے کہ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ (لقمان: ۲۸) مولوی مودودی صاحب کا تعلق ہے ان کی تفسیریں بھی بڑی دلچسپ ہیں۔میں اس کا ایک نمونہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں وہ پہلے تو یہ کہتے ہیں: قرآن مجید کی ہر سورۃ میں اس قدر وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان کے لئے مضمون کے لحاظ سے جامع عنوانات تجویز نہیں کئے جاسکتے۔“ ( تفہیم القرآن جلد اصفحه ۴۶) اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات کہہ دی ہے لیکن وہ عنوانات کیا ہیں جو خدا نے تجویز فرمائے ہیں یعنی کسی سورۃ کا نام بقرہ رکھا کسی کا نام یوسف رکھا کسی کا نام محمد رکھا اور کسی کا المدثر اور کسی کا کچھ اور۔یعنی قرآن کریم کی سورتوں کے بے شمار نام ہیں مگر یہ جتنے بھی نام ہیں وہ مولوی مودودی صاحب کی نظر میں کیا حیثیت رکھتے ہیں۔یہی کہ اگر مضامین اتنے ہی وسیع اور پھیلے ہوئے ہیں کہ کسی سورۃ کا کوئی جامع نام نہیں رکھا جا سکتا تو گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے خود جو نام رکھے ہیں وہ سارے کے سارے غیر جامع اور غیر فصیح ٹھہرتے ہیں۔یہ بات اس قدر جاہلانہ ہے اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر ایسا ظالمانہ حملہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک عالم دین اور اس قسم کی تفسیر۔بات دراصل یہ ہے کہ خود مضمون کو سمجھ نہیں سکتے اور ہر عنوان کا جوتعلق سورۃ کے مضمون سے ہے اسے دیکھ نہیں سکتے لیکن اپنی کوتاہ بینی کو قرآن کریم اور خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔پھر قرآنی تفسیر کا عالم دیکھئے جس پر ساری دنیا میں شور پڑا ہوا ہے کہ مولوی مودودی