خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد۴ 405 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء ”میری تحقیق بھی یہ ہے کہ سوائے مقناطیس کے کسی چیز میں قوت کشش نہیں۔۔۔۔ایک نیوٹن کا دور تھا۔ایک آئن سٹائن کا دور ہے۔ایک یہ فتاوی نعیمیہ کے مصنف کا دور آیا ہے۔کہتے ہیں کہ ) میری تحقیق بھی یہ ہے کہ سوائے مقناطیس کے کسی چیز میں قوت کشش نہیں قرآن مجید میں کشش زمین کا انکار ہے۔چنانچہ آیت کریم وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ (البقرہ: ۷۵) سے دلیل پکڑتے ہوئے فرماتے ہیں اللہ کے خوف سے پتھر گرتے ہیں۔معلوم ہوا کہ پتھر وغیرہ ہر چیز خود گرتی ہے نہ کہ زمین کی کشش سے۔کیونکہ اس دلالتہ النص میں خالق کا ئنات نے يهبط کا فاعل پتھر کو قرار دیا جب کہ سائنسدان کشش کو قرار دیتے ہیں۔اور بھی بہت آیات واحادیث ہیں کہ جن میں کشش کا انکار ہے اور آیت کریمہ میں پتھر گرنے کی وجہ خَشْيَةِ الله ہے نہ کہ کشش (العطایا الاحمدیہ فی الفتاوی نعیمی صفحه ۱۹۴) إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس خدا کو اور اس قرآن کو تم تسلیم کرتے ہوا اور اس قرآن کو دنیا کے سامنے پیش کرو گے اور دنیا سے منواؤ گے ؟ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کتنا عظیم الشان احسان ہے کہ کس طرح چاروں سمت پھیلے ہوئے اندھیروں سے نکال کر ہمیں اس نور کی طرف واپس لے آئے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا تھا۔اور یہ صرف موجودہ علماء کا حال نہیں ہے بہت سے اندھیرے ایسے بھی ہیں جو مختلف زمانوں کے لوگ پیدا کرتے رہے اور قرآن کریم کے پر معارف اور پر حکمت کلام پر پردے ڈالتے رہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جنہوں نے ان سب پردوں کو چاک کیا اور قرآن کریم کے ان انوار کو اپنی اصلی شکل میں ظاہر کیا جو دنیا پر غالب آنے کی مقدرت رکھتے ہیں مگر ان لوگوں نے قرآنی تعلیم پر پردے ڈال کر ظلم کیا۔چنانچہ علامہ ابن جریر جومشہور مصنف اور بڑے بزرگ انسان تھے لیکن اپنے زمانہ کی تاریکیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں ان کی حسب ذیل روایت بیان کی ہے: اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پرے ایک سمندر پیدا کیا ہے جواس