خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 397

خطبات طاہر جلدم 397 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے شیعہ کتب میں اللہ تعالیٰ کا جو تصور پایا جاتا ہے پہلے وہ سنئے۔تذکرۃ الائمہ صفحہ 91 پر لکھا ہے: ”حضرت علی خدا ہیں“ حق الیقین از امام محمد باقر مجلسی صفحه ۲۸ در بیان تفضیل امیر المومنین برسائر الانبیاء میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ: ”حضرت علی جمیع انبیاء سے افضل ہیں“ اور جہاں تک بریلوی عقائد کا تعلق ہے بریلویوں کے نزدیک خدا وہ خدا ہے جس کی صفات اور قدرتیں اس کے ان بندوں ہی میں تقسیم نہیں ہوئیں جو زندہ ہیں بلکہ ان بندوں میں بھی تقسیم ہیں جو مردہ ہیں اور وفات یافتہ کہلاتے ہیں ان کے مزاروں میں بھی خدا کی طاقتیں موجود ہیں اور وہ اس بارہ میں اللہ کے شریک ہیں۔چنانچہ ان تصورات کی بنا پر آج پاکستان جیسے ملک میں لاکھوں قبریں ایسی ملیں گی جہاں مختلف رنگ کی جھنڈیاں لگی ہوں گی یا بوسیدہ کپڑے (جنہیں پنجابی میں ٹاکیاں کہتے ہیں ( یعنی مختلف رنگوں کے چیتھڑے لٹکے ہوئے ہوں گے اور ہر قبر کی ایک تو قیر بیان کی جاتی ہے۔کوئی قبر بیماری ٹھیک کرنے کی قبر ہے کوئی بچہ دینے کی قبر ہے کوئی لڑکا دینے کی قبر ہے کوئی لڑکی دینے کی قبر ہے کوئی سل سے نجات دینے کی قبر ہے۔غرض ایک مومن کی ہر قسم کی مراد ہیں جو خدا تعالیٰ سے وابستہ ہوتی ہے اور ہر قسم کی حاجات جو خدا کے سوا خدا کا بندہ کسی اور سے مانگنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا وہ صرف زندوں سے نہیں بلکہ مردوں سے مانگی جاتی ہیں اور اس کے شرعی طور پر جواز پیش کئے جاتے ہیں۔چنانچہ احکام الشریعۃ حصہ دوم صفحه ۱۰۶ مسئلہ نمبر ۲ مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں۔اولیاء کرام کا مزارات سے تصرف کرنا بے شک حق ہے کہ مزارات سے قبروں میں سے امور دنیا میں تصرف کرنا اور کسی کو کچھ دینا اور کسی کے ہاتھ روک لینا یہ سب برحق ہے۔( اور ایک آیت کریمہ سے جس میں بیان فرمایا گیا کہ کفار اہل قبور سے مایوس ہو چکے ہیں مطلب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے سے،اس سے استنباط کر کے یہ لکھا گیا ہے ) کہ وہ سارے کا فر ہیں جو مردوں سے ان کی طاقتوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی نص صریح ان کے نزدیک یہ بتاتی ہے کہ مردے اپنے تصرفات میں خدا تعالیٰ کے شریک ہیں۔گویا یہ