خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 398

خطبات طاہر جلدم 398 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء لکھا گیا ہے کہ جولوگ اس بات سے مایوس ہو گئے ہیں وہ لازماً کافر ہیں۔“ اسی طرح بریلویوں کے مشہور عالم دین حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی نے لکھا ہے: ارشاد ہے مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ (يونس: ۱۰۷) یعنی ( قرآن کریم میں یہ و فر مایا گیا ہے ، انہیں نہ پکارو جو بذات خود قلع وانقصان نہ دیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بت نہ نفع دیں نہ نقصان۔لہذا ان کو نہ پکار و اور نبی ولی چونکہ نفع بھی دیتے ہیں اور نقصان بھی۔لہذا ان کو پکارو۔“ ( مواعظ نعیمیہ حصہ دوم صفحه ۲۹۴ مجموعه مواعظ الحاج احمد یار خان) ایک یہ ہے خدا تعالیٰ کا تصور اور اس کے برعکس خدا تعالیٰ کا ایک اور تصور بھی ہے جو انہی علماء کے ایک دوسرے طبقہ میں پایا جاتا ہے اور یہ دونوں ان باتوں میں آپس میں جنگ و جدال بھی کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ ایک طرف خدا تعالیٰ کے مقام و مرتبہ میں عام فانی بندوں کو بلکہ مردہ بندوں کو شریک کیا جارہا ہے تو دوسری طرف اللہ کو گناہگار بندوں کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ میں بھی گناہ کی قدرت ہے اور اس پر بخشیں اٹھائی جاتی ہیں۔چنانچہ دیو بندیوں کی ایک کتاب میں لکھا ہے: پس ہم نہیں مانتے کہ خدا کا جھوٹ محال بالذات ہو ورنہ لازم آئے گا کہ انسانی قدرت خدا کی قدرت سے زائد ہو جائے گی۔“ یک روزی مصنفه مولوی محمد اسماعیل صاحب صفحه ۱۴۵) اور اس مسئلہ پر مولویوں کی آپس میں بڑی لمبی لمبی بحثیں ہوتی رہی ہیں ،صرف امکان کذب نہیں بلکہ اس بحث میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ کہتے ہیں: اب افعال قبیحہ کو قدرت قدیمہ حق تعالیٰ شانہ سے کیونکر خارج کر سکتے ہیں“۔افعال قبیحہ مقدور باری تعالیٰ ہیں۔“ افعال قبیحہ کومثل دیگر ممکنات ذاتیہ مقدور باری جملہ اہل حق تسلیم کرتے ہیں۔“ (الحمد المقل حصہ اول صفحہ ۴۱)