خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 396
خطبات طاہر جلدم 396 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء تصورات جماعت احمدیہ کے تصورات سے مختلف ہیں۔جماعت احمدیہ کا دعویٰ یہ ہے اور ہم اس دعوے کو نوے سال سے دہراتے چلے آرہے ہیں کہ ہمارا اسلام وہی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کا اسلام تھا ، ہمارا خدا وہی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا خدا تھا، ہمارا ملائکہ کا تصور وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا گیا ، ہمارا قرآن حقیقی معنوں میں وہی قرآن ہے جو آنحضرت ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا تھا ، جنت اور جہنم کے بارہ میں بھی ہمارا وہی تصور ہے جو قرآن کریم پیش کرتا ہے اور جو سنت نبوی سے ثابت ہے ،مگر حکومت پاکستان کے سرکاری کتا بچہ میں جانتے بوجھتے ہوئے حقائق کو غلط رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جہاں تک اختلافات کا تعلق ہے اس کی تفصیل بڑی لمبی ہے اس کے متعلق کئی صفحات پر مشتمل اقتباسات موجود ہیں۔مجھے آج جمعہ پر آتے ہوئے دیر بھی اسی لئے ہوئی۔ایک ہفتہ سے کوشش کر رہا ہوں کہ کسی طرح اس مضمون کو سمیٹ سکوں اور اقتباسات (حوالہ جات) میں سے کچھ منتخب کرلوں اور باقی کو چھوڑ دوں لیکن اس مضمون کو واضح کرنے کے لئے اتنے زیادہ اقتباسات ہیں جو آٹھ دس خطبوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔ان سب کو سمیٹ کر میں آج ایک خطبہ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ایک متقی، پرہیز گار اور سچائی کا پرستار اگر تحقیق کرنا چاہتا تو اس کو چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کو پیش کرتا اور پھر مخالف علماء جو آج بھی جماعت احمدیہ کے اول دشمن ہیں انہوں نے ذات باری تعالیٰ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کو بھی پیش کرتا اور دنیا کو یہ بتاتا کہ دیکھو حدیوں کا اللہ اور ہے اور ہمارا اللہ اور ہے۔اس طرح دنیا دیکھ لیتی اور سمجھ جاتی کہ اللہ کے بارہ میں کس کا عقیدہ حق ہے اور کس کا عقیدہ ایک خیالی اور تصوراتی بات ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح آنحضرت ﷺ ، ملائکہ، کتب سماویہ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوتحریرات ہیں وہ پیش کی جاتیں اور بتایا جا تا ہے کہ یہ ان کا تصور ہے اور یہ ہمارے علماء کا تصور ہے۔پس چونکہ سرکاری رسالہ کے لکھنے والوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے اب میں نمونہ بتاتا ہوں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے بے شمار اقتباسات میں سے وقت کی مناسبت سے اس وقت گنتی کے چند حوالے ہی پیش کر سکوں گا۔