خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 395
خطبات طاہر جلدم 395 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء ان سب لوگوں کو علم ہے ،حکومت پاکستان کے بڑے لوگوں کو بھی علم ہے اور چھوٹوں کو بھی ، علماء کو بھی علم ہے اور وزراء کو بھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے عقائد کو بار بار بڑی کثرت اور بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما چکے ہیں اور جماعت احمدیہ کی روز مرہ زندگی مخالفین کے سامنے ایک کھلی کتاب کے طور پر موجود ہے۔پس سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ ہمارا خدا الگ ہے ، ہمارا قرآن الگ ہے ، ہمارا اسلام الگ ہے ، ہمارے روزے الگ ہیں۔کلمہ طیبہ کے متعلق کہا کرتے تھے کہ الگ ہے لیکن اب خود ہی ایسے اقدامات کئے جس کے نتیجہ میں تمام دنیا پر خود ہی یہ ظاہر کرنے پر مجبور ہو گئے کہ احمدیوں کا کلمہ وہی تھا جو ہمارا کلمہ تھا، ہم جھوٹ بولا کرتے تھے، نوے سال تک ہم نے جھوٹ بولا اور اب ہم اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ احمدیوں کا وہی کلمہ ہے جو ہمارا کلمہ ہے، لیکن ہم ان کو وہ کلمہ استعمال نہیں کرنے دیں گے۔پس ان کا ہر جھوٹ خود بخود کھلتا چلا جارہا ہے اس لئے یہ عبارت جس نے بھی لکھی ہے وہ لازماً دجل کا بڑا ماہر اور عمداً جھوٹ بولنے والا ہے ، وہ ایک ہے یا ایک سے زیادہ ہیں اس سے ہمیں غرض نہیں مگر وہ حکومت اس جھوٹ کی ذمہ دار ہے جس نے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے اسے اپنے کتابچہ میں شائع کیا ہے۔حکومت پاکستان کے سرکاری کتا بچہ کے مندرجہ بالا الفاظ میں یہ کہا گیا ہے کہ گویا واقعہ احمدیوں کی سب چیزیں الگ ہیں۔امر واقعہ یہ نہیں ہے کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ فصاحت و بلاغت کا یہ ایک طریق ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے سے جملے میں وسیع مضمون بیان کئے جاتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ کہا جاتا ہے کہ تم اور میں اور تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے یہ تسلیم کر لیا کہ تم انسان نہیں ہو تم کوئی جانور مثلا گدھے یا کتے ہو بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ تم اور قسم کے انسان ہو اور میں اور قسم کا انسان ہوں تم میں انسان کی سی صفات باقی نہیں رہیں، میں انسان ہوں میری انسانیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن تم بدل چکے ہو تم نے اپنی انسانیت کے اندر غیر انسانی صفات داخل کر لی ہیں۔بالکل اسی معنی و مفہوم میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا فقرے استعمال فرمائے جماعت کو یہ بتانے اور سمجھانے کے لئے کہ کسی معمولی اختلاف کی وجہ سے خدا نے یہ سلسلہ شروع نہیں کیا بلکہ مخالفین احمدیہ کا خدا تعالیٰ کے بارہ میں تصور، قرآن کا تصور، ملائکہ کا تصور ، انبیاء کا تصور، آخرت کا تصور جنت و جہنم اور حیات بعد الموت کا تصور ، غرض اسلام کی بنیادی باتوں کے